تہران: ایران کے سابق وزیرِ خارجہ اور رکنِ پارلیمنٹ منوچہر متقی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے ایرانی عدلیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اسلامی اصولِ قصاص کے تحت دونوں رہنماؤں کے خلاف فوری طور پر سزائے موت کے فیصلے جاری کیے جائیں۔
منوچہر متقی نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ایرانی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اژہای ٹرمپ کے خلاف قصاص کا فیصلہ جاری کرتے ہیں تو اس کے سیاسی اور نفسیاتی اثرات نمایاں ہوں گے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ایسا فیصلہ امریکی صدر کو دباؤ میں لے آئے گا اور وہ اپنا توازن کھو بیٹھیں گے۔
ایرانی سابق وزیرِ خارجہ نے خطے کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے معاملے پر بھی حکومت کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حساس آبی گزرگاہ کے حوالے سے عمان کے ساتھ مذاکرات کرنا اور مسقط کو اس کے انتظام میں ممکنہ کردار دینے پر غور کرنا ایران کی ایک بڑی غلطی تھی۔
منوچہر متقی کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے اور خطے کی صورتحال پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے۔
نوٹ: یہ مطالبات اور بیانات منوچہر متقی کے ذاتی سیاسی مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں اور انہیں ایرانی عدلیہ یا حکومت کی باضابطہ پالیسی یا فیصلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
