لاہور: ضلع کچہری لاہور نے اینکر ریحان طارق کے خلاف درج توہینِ مذہب کے مقدمے میں بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔
کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے کی، جہاں فریقین کے وکلا نے اپنے اپنے دلائل پیش کیے۔ دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے ضمانت کی درخواست خارج کر دی۔
یاد رہے کہ یہ مقدمہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے درج کر رکھا ہے۔
سماعت کے دوران ریحان طارق کے وکیل میاں داؤد ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمے میں شامل دفعات قابلِ ضمانت ہیں اور موکل کی جانب سے پوچھا گیا سوال توہینِ مذہب کے زمرے میں نہیں آتا، اس لیے انہیں ضمانت دی جائے۔
دوسری جانب این سی سی آئی اے کے پراسیکیوٹر نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ مقدمے کی نوعیت اور دستیاب شواہد کے پیش نظر ملزم کو ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے پراسیکیوشن کا مؤقف قبول کرتے ہوئے اینکر ریحان طارق کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی، جس کے بعد وہ مقدمے میں عدالتی کارروائی کا سامنا کریں گے۔