پاکستان کی معروف اداکارہ، میزبان اور مصنفہ بشریٰ انصاری نے اپنی بیٹی کی شادی سے متعلق ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ رشتہ طے کرتے وقت ان سے ایسی غلطی ہوئی جسے وہ آج بھی اپنی زندگی کی بڑی کوتاہی سمجھتی ہیں۔
حال ہی میں ایک نجی ٹی وی کے مارننگ شو میں گفتگو کرتے ہوئے بشریٰ انصاری نے اپنی بیٹیوں کی پرورش، ان پر عائد خاندانی پابندیوں اور شادی کے معاملے میں اپنائی گئی نسبتاً آزاد سوچ پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی نسل کو نہ لڑکوں سے دوستی کی اجازت تھی اور نہ ہی کو ایجوکیشن کے ماحول میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا، اسی تجربے کے برعکس انہوں نے اپنی بیٹیوں کو ہمیشہ یہ آزادی دی کہ اگر انہیں کوئی پسند ہو تو وہ بلا جھجھک اپنے والدین کو بتائیں اور کبھی جھوٹ نہ بولیں۔
بشریٰ انصاری نے کہا کہ ان کی یہی سوچ بعد میں ان کے لیے ایک تلخ تجربہ ثابت ہوئی۔ ان کے مطابق وہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے جہاں دولت کے بجائے کردار، اخلاق اور خاندانی اقدار کو زیادہ اہمیت دی جاتی تھی۔ ان کا ماننا تھا کہ اگر شوہر کی آمدن کم بھی ہو تو میاں بیوی محنت سے اپنا مستقبل بنا سکتے ہیں۔
اداکارہ نے اعتراف کیا کہ بیٹی کے لیے رشتہ منتخب کرتے وقت وہ لڑکے کی اصل شخصیت کو سمجھنے میں ناکام رہیں۔ انہوں نے صرف اس کے شائستہ انداز، تعلیم یافتہ خاندان اور ظاہری شخصیت کو دیکھ کر یہ فرض کر لیا کہ وہ اچھا انسان ہوگا، لیکن بعد میں یہ اندازہ درست ثابت نہ ہو سکا۔
بشریٰ انصاری نے مزید بتایا کہ ان کی بیٹی نریمان نے پہلے ہی انہیں آگاہ کیا تھا کہ جب بھی وہ لڑکے سے مالی معاملات کے بارے میں سوال کرتی تو وہ ناراض ہو جاتا تھا۔ ان کے مطابق یہی دراصل ایک واضح خطرے کی علامت تھی، مگر اس وقت انہوں نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ کہیں رشتہ ختم نہ ہو جائے۔
انہوں نے کہا کہ آج جب وہ ماضی پر نظر ڈالتی ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ رشتہ طے کرتے وقت انسان کو صرف ظاہری شخصیت یا خاندانی پس منظر نہیں بلکہ مزاج، رویے اور مالی معاملات سمیت ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لینا چاہیے۔