ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکا کی جانب سے تازہ فوجی حملوں کے بعد ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی کارروائیاں نہ رکیں تو آبنائے ہرمز کے ساتھ ساتھ خطے کے دیگر اہم تجارتی اور توانائی کے راستے بھی بند کیے جا سکتے ہیں۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکا اپنی “جارحانہ کارروائیاں” ختم نہیں کرتا۔ گارڈز نے یہ بھی عندیہ دیا کہ ضرورت پڑنے پر خطے سے تیل اور گیس کی برآمد کے دیگر راستوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے، تاہم ان راستوں کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے تصدیق کی ہے کہ بدھ کی صبح ایران میں متعدد فوجی اہداف پر ڈرون، فضائی اور بحری حملے کیے گئے۔ امریکی فوج کے مطابق ان کارروائیوں سے قبل رات بھر تقریباً سات گھنٹے تک ایک بڑے آپریشن کو بھی انجام دیا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران مذاکرات کی میز پر واپس نہ آیا تو آئندہ ہفتے ایران کے پلوں اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ توانائی کے اہداف کو فی الحال آخری مرحلے کے لیے رکھا گیا ہے، لیکن ضرورت پڑنے پر ان پر بھی حملے کیے جائیں گے۔
ادھر امریکا نے ایران کی بندرگاہوں پر بحری پابندیاں مزید سخت کر دی ہیں، جس کے تحت جہازوں کی ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں تک آمدورفت محدود کر دی گئی ہے۔
ان پابندیوں کے جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکا کو خبردار کیا کہ اگر دباؤ اور فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو ایسے مزید تیل اور گیس برآمدی راستے بند کیے جا سکتے ہیں جو امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مفادات سے جڑے ہوئے ہیں۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے خدشات بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
