🐧 100 سال سے زائد عرصے بعد پینگوئن کی نئی قسم دریافت، جینیاتی تحقیق نے کیا بڑا انکشاف؟

0
4

سائنس کی دنیا میں ایک حیران کن پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں محققین نے 100 سال سے زائد عرصے بعد پینگوئن کی ایک نئی species کی شناخت کی ہے۔ یہ نئی قسم دنیا کے انتہائی دور افتادہ Kerguelen Islands میں پائی گئی ہے، جہاں موجود جینٹو پینگوئن طویل عرصے سے سائنس دانوں کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔

نئی تحقیق نے صرف ایک نئی پینگوئن species دریافت نہیں کی بلکہ جینٹو پینگوئنز کے بارے میں سائنس دانوں کی پرانی درجہ بندی کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔ جینیاتی شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ جن پینگوئنز کو پہلے ایک ہی species سمجھا جاتا تھا، وہ دراصل چار الگ الگ species پر مشتمل ہیں۔

نئی شناخت کی جانے والی جنوبی مشرقی جینٹو پینگوئن species کا سائنسی نام Pygoscelis kerguelensis رکھا گیا ہے۔ یہ پینگوئن Kerguelen Islands میں پائے جاتے ہیں، جو کسی مستقل انسانی آبادی والے علاقے سے تقریباً 2 ہزار میل دور واقع انتہائی تنہا جزائر ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پینگوئن ظاہری شکل میں اپنے قریبی رشتہ داروں سے بہت زیادہ مختلف نظر نہیں آتے۔ ان کا سفید پیٹ، سیاہ پشت اور عمومی جسمانی ساخت دوسرے جینٹو پینگوئنز سے ملتی جلتی ہے۔ اسی لیے صرف ظاہری مشاہدے کی بنیاد پر ان کی الگ species کے طور پر شناخت مشکل رہی۔ سائنس دانوں نے اصل فرق ان کے DNA اور مکمل جینیاتی تجزیے کے ذریعے دریافت کیا۔

اس تحقیق کے لیے دنیا کے مختلف علاقوں میں موجود 10 breeding colonies سے 64 جینٹو پینگوئنز کے مکمل جینوم کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ محققین نے ان کے جسمانی خدوخال، آوازوں، افزائش نسل کے اوقات، خوراک اور سمندر میں شکار کرنے کے طریقوں کا بھی موازنہ کیا۔

تحقیق کے مطابق جینٹو پینگوئنز کی چار الگ species میں Pygoscelis kerguelensis، Pygoscelis ellsworthi، Pygoscelis taeniata اور Pygoscelis papua شامل ہیں۔ سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ یہ مختلف گروہ تقریباً 3 لاکھ سے 5 لاکھ سال پہلے ایک دوسرے سے ارتقائی طور پر الگ ہونا شروع ہوئے۔

ان پینگوئنز کی الگ الگ species بننے میں ان کا جغرافیائی طور پر ایک دوسرے سے دور رہنا اہم کردار ادا کرتا رہا۔ مختلف جزائر اور سمندری علاقوں میں الگ تھلگ رہنے کے باعث ان کی آبادیوں نے اپنے مقامی ماحول کے مطابق جینیاتی خصوصیات پیدا کیں۔

یہ تحقیق ایک اور دلچسپ پہلو بھی سامنے لائی ہے۔ جینٹو پینگوئن مختلف اقسام کی خوراک کھا سکتے ہیں، جن میں مچھلی، کرِل، اسکویڈ اور کٹل فش شامل ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق خوراک میں یہ لچک بھی ممکنہ طور پر ان کی مختلف ماحول میں بقا اور ارتقائی تبدیلیوں میں مددگار رہی۔

تاہم نئی دریافت کے ساتھ ایک تشویش ناک پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ محققین نے موسمیاتی ماڈلز کے ذریعے 2050 تک ان پینگوئنز کے ممکنہ مسکن کا جائزہ لیا اور خدشہ ظاہر کیا کہ جزائر میں رہنے والی جینٹو پینگوئن species کو موسمیاتی تبدیلی کے باعث مناسب رہائش گاہوں میں نمایاں کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ بعض علاقوں میں مستقبل میں ان پینگوئنز کے لیے متبادل مسکن بھی بہت محدود ہو سکتے ہیں۔

محققین کے مطابق بڑھتا ہوا سمندری درجہ حرارت، رہائش گاہوں میں تبدیلی، تجارتی ماہی گیری سے مقابلہ، متعارف کرائے گئے شکاری جانور اور مچھلی پکڑنے کے جال میں حادثاتی طور پر پھنس جانا بھی ان آبادیوں کے لیے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔

یوں یہ دریافت بیک وقت خوشی اور تشویش کی خبر بن گئی ہے۔ ایک طرف سائنس دانوں نے ایک ایسی پینگوئن species کی شناخت کی ہے جو ایک صدی سے زیادہ عرصے تک باقاعدہ سائنسی درجہ بندی سے اوجھل رہی، جبکہ دوسری طرف اسی species کے مستقبل پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے سوالات بھی سامنے آ گئے ہیں۔

یہ تحقیق اس بات کی ایک دلچسپ مثال ہے کہ DNA اور جدید جینیاتی ٹیکنالوجی کس طرح ایسے جانداروں کے ارتقائی راز کھول رہی ہے جنہیں بظاہر سائنس پہلے ہی اچھی طرح جانتی تھی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا