اسلام آباد، 22 ستمبر 2026: پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف ممکنہ لانگ مارچ کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت، راولپنڈی اور اٹک میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ حکام کی جانب سے اضافی پولیس نفری طلب کرنے کے ساتھ اہم شاہراہوں اور داخلی و خارجی راستوں پر کنٹینرز اور دیگر رکاوٹیں بھی پہنچائی جا رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں 22 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات کرنے کی تیاری کی گئی ہے، جبکہ بعض رپورٹس میں یہ تعداد 23 ہزار سے زائد بھی بتائی گئی ہے۔ اسلام آباد میں سکیورٹی انتظامات کی نگرانی کے لیے 8 ڈی آئی جیز سمیت سینئر پولیس افسران کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
دوسری جانب راولپنڈی میں بھی اضافی پولیس نفری طلب کی گئی ہے۔ رپورٹس میں راولپنڈی کے لیے 9 ہزار سے 13 ہزار سے زائد اہلکاروں کی مختلف تعداد سامنے آئی ہے، جس کا انحصار مقامی پولیس کے علاوہ طلب کی جانے والی اضافی نفری پر ہے۔
خیبر پختونخوا اور پنجاب کو ملانے والے اہم ضلع اٹک میں بھی سکیورٹی کا خصوصی انتظام کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اٹک میں تقریباً 30 ہزار اہلکار تعینات کیے جانے کی تیاری ہے اور مختلف اضلاع سے اضافی نفری وہاں پہنچنا شروع ہو چکی ہے۔ اٹک کو اس لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ یہ خیبر پختونخوا سے پنجاب اور اسلام آباد، راولپنڈی کی جانب آنے والے اہم زمینی راستوں میں شامل ہے۔
سکیورٹی اقدامات کے تحت اسلام آباد اور اٹک کے مختلف مقامات پر 2 ہزار سے زائد کنٹینرز تعینات کیے جانے کی رپورٹ بھی سامنے آئی ہے۔ اہم شاہراہوں اور داخلی راستوں پر مزید رکاوٹیں کھڑی کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے، جبکہ بعض مقامات پر راستوں کو محدود یا بند کرنے کے انتظامات بھی زیرِ غور ہیں۔
اضافی سکیورٹی اہلکاروں کی رہائش اور انتظامات کے لیے اسلام آباد میں بعض سرکاری عمارتوں، اسپورٹس کمپلیکس، پاک چائنا فرینڈ شپ سینٹر اور تعلیمی اداروں کو استعمال کرنے کی اطلاعات ہیں۔ سکیورٹی ڈیوٹی کے لیے اہلکاروں کی رہائش کے انتظامات کے باعث اسلام آباد کے 24 سرکاری تعلیمی اداروں کو 22 ستمبر سے بند رکھنے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے۔
اس کے علاوہ اسلام آباد پولیس نے احتجاجی سرگرمیوں کے دوران اضافی اخراجات کے لیے 827 ملین روپے کی رقم طلب کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ رقم کنٹینرز کے کرائے، پولیس اہلکاروں کی رہائش، خوراک، نقل و حمل اور اینٹی رائٹ آلات سمیت دیگر انتظامات پر خرچ کی جائے گی۔
پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں احتجاجی مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جبکہ حکام کی جانب سے دارالحکومت میں امن و امان برقرار رکھنے اور اہم تنصیبات و شاہراہوں کی حفاظت کے لیے سکیورٹی پلان پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس سے قبل اسلام آباد کی جانب مارچ روکنے کے حکومتی عزم کا اظہار بھی کیا تھا، جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے مارچ کو پرامن اور آئینی احتجاج قرار دیا گیا ہے۔
یوں 27 ستمبر سے قبل اسلام آباد، راولپنڈی اور اٹک میں سکیورٹی، ٹریفک اور انتظامی اقدامات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ آئندہ چند روز میں داخلی و خارجی راستوں اور شہری آمدورفت کے حوالے سے مزید انتظامات سامنے آنے کا امکان ہے۔
