بہاولپور: قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 168 بہاولپور-V میں ضمنی انتخاب کا معاملہ اہم مرحلے میں داخل ہوگیا ہے اور ریٹرننگ افسر کی جانب سے امیدواروں کے انتخابی عمل کو حتمی شکل دیے جانے کے بعد اب 20 امیدوار میدان میں رہ گئے ہیں۔ حلقے میں ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ 27 ستمبر 2026 کو ہوگی۔
حلقہ این اے 168 کی نشست پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی ملک محمد اقبال چنڑ کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔ الیکشن کمیشن نے نشست خالی ہونے کے بعد مقررہ آئینی و قانونی مدت کے تحت ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری کیا، جس کے مطابق اب انتخابی سرگرمیاں آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں۔
ریٹرننگ افسر کے مطابق ابتدا میں بڑی تعداد میں امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے، تاہم حتمی مرحلے میں 13 امیدواروں نے اپنے کاغذات واپس لے لیے، جس کے بعد مقابلے میں 20 امیدوار باقی رہ گئے ہیں۔ دستبردار ہونے والوں میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری طارق بشیر چیمہ، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار سمیع اللہ چوہدری اور عقیل نجم ہاشمی سمیت متعدد آزاد امیدوار شامل تھے۔
مسلم لیگ (ن) نے اس نشست کے لیے ملک منیر اقبال چنڑ کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔ وہ مرحوم رکن قومی اسمبلی ملک محمد اقبال چنڑ کے صاحبزادے ہیں اور حکمران جماعت کی جانب سے انہیں حلقے میں اہم امیدوار کے طور پر میدان میں اتارا گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ان کی نامزدگی کے بعد انتخابی مقابلے میں خاندان اور جماعتی ووٹ بینک دونوں کو اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔
دوسری جانب بہاولپور کی سیاست میں ایک اہم نام چوہدری ولی داد چیمہ کا ہے، جو چوہدری طارق بشیر چیمہ کے صاحبزادے ہیں اور اس ضمنی انتخاب میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے حصہ لے رہے ہیں۔ چوہدری طارق بشیر چیمہ نے اگست میں اعلان کیا تھا کہ ان کے صاحبزادے ولی داد چیمہ این اے 168 کے ضمنی انتخاب میں حصہ لیں گے۔ ان کے مطابق نئی نسل کو سیاست میں آگے لانے اور بہاولپور کے مسائل کو قومی سطح پر اجاگر کرنے کے مقصد سے یہ فیصلہ کیا گیا۔
این اے 168 کے ضمنی انتخاب میں سیاسی صورتحال اس لحاظ سے بھی مختلف ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے امیدواروں کے کاغذات واپس لے کر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ملک منیر اقبال چنڑ کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما سید علی حیدر گیلانی کے مطابق پارٹی قیادت کی ہدایت پر این اے 168 میں پیپلز پارٹی کے امیدوار مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کے حق میں دستبردار ہوئے۔
اسی طرح 2024 کے عام انتخابات کے مقابلے میں موجودہ ضمنی انتخاب کا سیاسی منظرنامہ نمایاں طور پر تبدیل ہوچکا ہے۔ 2024 کے عام انتخابات میں ملک محمد اقبال چنڑ نے این اے 168 سے 122,302 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ ان کے قریب ترین حریف سمیع اللہ چوہدری نے 50,360 ووٹ حاصل کیے تھے۔ اس وقت حلقے میں مجموعی ٹرن آؤٹ 46.74 فیصد رہا تھا۔
تاہم موجودہ ضمنی انتخاب میں پیپلز پارٹی کی دستبرداری اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار سمیع اللہ چوہدری کے کاغذات واپس لینے کے بعد مقابلے کی نوعیت تبدیل ہوگئی ہے۔ اب مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ملک منیر اقبال چنڑ اور آزاد امیدوار ولی داد چیمہ کے درمیان مقابلہ خاص طور پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جبکہ دیگر امیدوار بھی اپنے اپنے انتخابی اور سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔
این اے 168 بہاولپور-V بنیادی طور پر بہاولپور شہر اور بہاولپور کینٹ کے علاقوں پر مشتمل قومی اسمبلی کا حلقہ ہے۔ دستیاب انتخابی ریکارڈ کے مطابق حلقے میں 4 لاکھ 47 ہزار 963 رجسٹرڈ ووٹرز موجود ہیں، جس کے باعث 27 ستمبر کا انتخاب نہ صرف امیدواروں بلکہ بڑی سیاسی جماعتوں کے لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
انتخابی عمل کے اگلے مرحلے میں امیدوار اپنی انتخابی مہم کو مزید تیز کریں گے اور مختلف سیاسی و سماجی حلقوں سے رابطے بڑھائے جائیں گے۔ امیدواروں کی جانب سے ووٹرز کو اپنے حق میں متحرک کرنے کے لیے جلسوں، کارنر میٹنگز اور ڈور ٹو ڈور مہم کا سلسلہ بھی زور پکڑنے کا امکان ہے۔
27 ستمبر کو ہونے والا یہ ضمنی انتخاب اس لحاظ سے بھی اہم ہوگا کہ اس کے نتائج سے بہاولپور کی مقامی سیاست میں طاقت کا توازن واضح ہوگا۔ مسلم لیگ (ن) اپنی خالی ہونے والی نشست برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی، جبکہ آزاد امیدوار اور دیگر سیاسی گروہ حلقے میں اپنے اثر و رسوخ کو انتخابی کامیابی میں تبدیل کرنے کے لیے بھرپور کوشش کریں گے۔
یوں این اے 168 بہاولپور کا ضمنی انتخاب اب محض ایک خالی نشست پر انتخاب نہیں رہا بلکہ مقامی سیاسی دھڑوں، جماعتی اتحادوں، خاندانی اثر و رسوخ اور ووٹرز کے رجحان کا اہم امتحان بن چکا ہے، جس کا فیصلہ 27 ستمبر کو ووٹوں کی گنتی کے بعد سامنے آئے گا۔
