بہت گرم چائے یا کافی پینے والوں کے لیے اہم تحقیق، غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ بڑھنے کا انکشاف

0
1

لندن: چائے یا کافی کے شوقین افراد کے لیے ایک نئی بڑی تحقیق میں اہم انکشاف سامنے آیا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق چائے یا کافی اگر بہت زیادہ گرم حالت میں باقاعدگی سے پی جائے تو غذائی نالی کے ایک مخصوص قسم کے کینسر کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ سکتا ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کی سربراہی میں ہونے والی اس تحقیق میں برطانیہ کے تقریباً 9 لاکھ 80 ہزار افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا، جن کی صحت اور عادات کا تقریباً 14 سال تک مشاہدہ کیا گیا۔ محققین نے خاص طور پر گرم مشروبات کے درجہ حرارت اور انہیں پینے کی تعداد کا جائزہ لیا۔

تحقیق کے مطابق جو افراد چائے یا کافی کو ’’بہت گرم‘‘ حالت میں پینا پسند کرتے تھے، ان میں غذائی نالی کے Squamous Cell Carcinoma نامی کینسر کا خطرہ گرم یا نیم گرم مشروبات پینے والوں کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ دیکھا گیا۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ اگر کوئی شخص روزانہ چھ یا اس سے زیادہ گرم مشروبات استعمال کرتا ہے تو، درجہ حرارت کے اثرات کو الگ رکھنے کے بعد بھی، اس مخصوص قسم کے کینسر کا خطرہ چھ سے کم گرم مشروبات پینے والوں کے مقابلے میں تقریباً 71 فیصد زیادہ تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ چائے یا کافی کے بجائے بنیادی طور پر مشروب کے انتہائی زیادہ درجہ حرارت سے متعلق دکھائی دیتا ہے۔ بہت گرم مائع بار بار غذائی نالی کی اندرونی سطح کے خلیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے، اور طویل عرصے تک یہ جلن اور خلیاتی نقصان کینسر کے خطرے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت سے منسلک انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر (IARC) پہلے ہی 65 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت پر استعمال کیے جانے والے انتہائی گرم مشروبات کو انسانوں کے لیے ’’ممکنہ طور پر سرطان پیدا کرنے والے‘‘ عوامل میں شامل کر چکی ہے۔ تاہم اس درجہ بندی کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص جو گرم چائے یا کافی پیتا ہے اسے لازماً کینسر ہو جائے گا۔

نئی تحقیق میں خاص طور پر غذائی نالی کے Squamous Cell Carcinoma کے ساتھ تعلق سامنے آیا، جبکہ غذائی نالی کے ایک دوسرے اہم کینسر، Adenocarcinoma کے خطرے میں گرم مشروبات کے درجہ حرارت کے حوالے سے اسی نوعیت کا واضح تعلق نہیں ملا۔

ماہرین کا مشورہ ہے کہ چائے یا کافی کو کپ میں ڈالنے کے فوراً بعد پینے کے بجائے کچھ دیر انتظار کیا جائے اور اسے اس وقت استعمال کیا جائے جب وہ آرام سے پینے کے قابل درجہ حرارت پر آ جائے۔

تاہم محققین نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ تحقیق میں مشروبات کا اصل درجہ حرارت تھرمامیٹر سے نہیں ناپا گیا بلکہ شرکاء سے پوچھا گیا کہ وہ اپنی چائے یا کافی کو کس درجہ حرارت پر پینا پسند کرتے ہیں۔ اس لیے نتائج میں کچھ حد تک غیر یقینی موجود رہ سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق چائے اور کافی کو مکمل طور پر چھوڑنے کے بجائے انتہائی گرم حالت میں پینے سے گریز کرنا زیادہ اہم ہے۔ اس کے علاوہ تمباکو نوشی اور زیادہ شراب نوشی بھی غذائی نالی کے کینسر کے اہم خطراتی عوامل میں شامل ہیں۔

یعنی اگلی بار گرم گرم چائے یا کافی سامنے آئے تو اسے فوراً پینے کے بجائے چند منٹ ٹھنڈا ہونے دینا صحت کے لیے بہتر انتخاب ہو سکتا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا