نئے صوبوں کی بحث نے پاکستان کی سیاست گرم کردی، سندھ اسمبلی میں سخت مزاحمت، کیا ملک کا سیاسی نقشہ بدلنے والا ہے؟

0
1

پاکستان کی سیاست میں ایک ایسا معاملہ دوبارہ پوری شدت کے ساتھ سامنے آگیا ہے جو ماضی میں بھی کئی مرتبہ سیاسی بحث کا مرکز بنتا رہا ہے۔ نئے صوبوں اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی بازگشت ایک مرتبہ پھر تیز ہوچکی ہے اور اس مرتبہ بحث صرف جنوبی پنجاب یا انتظامی سہولت تک محدود نہیں بلکہ سندھ کی ممکنہ تقسیم، کراچی کے انتظامی مستقبل اور پورے ملک کے حکومتی ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل تک پہنچ گئی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بیٹھ کر نئے یونٹس اور صوبوں سمیت ملک کے بنیادی مسائل طے کرنا ہوں گے۔ اسی دوران وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی حکمرانی کے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی کی بات کرتے ہوئے کہا کہ یا تو ملک میں مزید 15 صوبے بنائے جائیں یا 160 مکمل بااختیار ضلعی حکومتیں قائم کی جائیں۔

یہ صورتحال اس لیے بھی دلچسپ ہے کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کے نئے صوبوں کے معاملے پر ماضی میں مختلف مؤقف رہے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ طویل عرصے سے بڑے صوبوں کو چھوٹے انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے اور بااختیار مقامی حکومتوں کی حامی رہی ہے۔ دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی بالخصوص سندھ کی تقسیم کے معاملے میں سخت مزاحمت کرتی رہی ہے۔ مسلم لیگ ن کا مؤقف بھی مختلف ادوار میں تبدیل ہوتا رہا؛ 2012 میں پنجاب اسمبلی میں جنوبی پنجاب صوبے کی قرارداد اور اس وقت کی سیاسی کشمکش اس معاملے کی پیچیدگی کو ظاہر کرتی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے بھی ماضی میں جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کی حمایت کی تھی۔ 2018 میں پی ٹی آئی نے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے اسے لسانی نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر ضروری قرار دیا تھا، جبکہ اپنی وفاقی حکومت کے دور میں جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کے قیام اور اسے مالی و انتظامی اختیارات دینے کی جانب بھی اقدامات کیے گئے۔

لیکن آج کی سیاسی صورتِ حال میں سب سے زیادہ توجہ سندھ پر مرکوز ہے۔ سندھ اسمبلی میں گزشتہ دنوں نئے صوبوں کے قیام اور سندھ کی ممکنہ تقسیم کے معاملے پر مسلسل بحث ہوئی اور پیپلز پارٹی کے اراکین نے انتہائی سخت الفاظ میں اس امکان کو مسترد کیا۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اسمبلی میں دوٹوک مؤقف اختیار کیا کہ “سندھ کبھی تقسیم نہیں ہوگا” اور یہ بھی کہا کہ سندھ کے مستقبل کا فیصلہ چند “لاہور کے کاروباری افراد” نہیں کرسکتے، بلکہ یہ اختیار سندھ اسمبلی کے منتخب ارکان کے پاس ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نثار احمد کھوڑو کی جانب سے اس معاملے پر قرارداد اور بحث شروع کروائی گئی، جبکہ فریال تالپور نے بھی اسمبلی میں سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ “سندھ کسی کی جاگیر نہیں اور کسی کے فائدے کے لیے اسے تقسیم نہیں کیا جاسکتا”۔ انہوں نے کہا کہ تمام منتخب نمائندے اپنے اپنے حلقوں میں جاکر سندھ کے اتحاد کا پیغام دیں گے اور “سندھ کی دھرتی ہماری ہے، اس کی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔”

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے بھی واضح کیا کہ سندھ کے مستقبل کا فیصلہ اسمبلی کے اندر ہونا چاہیے، ٹی وی اسکرینوں یا سڑکوں پر نہیں۔ پیپلز پارٹی کے اراکین نے بار بار یہ مؤقف دہرایا کہ انتظامی اصلاحات کی ضرورت اپنی جگہ، لیکن انتظامی اصلاحات کو سندھ کی تقسیم کے ساتھ نہیں ملایا جاسکتا۔

بالآخر سندھ اسمبلی نے 3 ستمبر کو ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے سندھ کو تقسیم کرنے، اس کی موجودہ علاقائی حدود تبدیل کرنے یا اس کے کسی حصے کو الگ صوبے یا وفاقی انتظامی بندوبست میں شامل کرنے کی کسی بھی تجویز کو مسترد کردیا۔ قرارداد میں سندھ کی وحدت کو واضح طور پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا گیا۔

یہاں ایک بڑا سیاسی سوال پیدا ہوتا ہے: اگر نئے صوبوں کی بحث اسی طرح آگے بڑھتی رہی تو کیا ہوگا؟

ایک امکان یہ ہے کہ بحث سندھ تک محدود نہ رہے اور جنوبی پنجاب، ہزارہ، کراچی یا دوسرے بڑے انتظامی علاقوں کے لیے بھی سیاسی مطالبات دوبارہ زور پکڑیں۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں براہِ راست “نئے صوبے” کے بجائے پہلے نئے انتظامی یونٹس، بااختیار بلدیاتی حکومتوں اور نئے ڈویژن یا اضلاع کی بات پر اتفاق کریں۔ اس راستے سے صوبوں کی فوری تقسیم کے بجائے مرحلہ وار انتظامی تبدیلی کی بنیاد بن سکتی ہے۔

سب سے اہم سوال آئینی رکاوٹ کا ہے۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت اگر کسی صوبے کی حدود تبدیل کرنی ہوں تو متعلقہ صوبائی اسمبلی سے کم از کم دو تہائی اکثریت سے منظوری ضروری ہے۔ اس کے بعد آئینی ترمیم کے لیے پارلیمان میں بھی مطلوبہ دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ اس لیے کسی صوبے کو صرف وفاقی حکومت یا کسی ایک سیاسی جماعت کے فیصلے سے تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔

اسی وجہ سے اگر مستقبل میں کوئی طاقتور حلقہ نئے صوبوں کے قیام کو آگے بڑھانا چاہے تو اسے سیاسی طور پر کئی مرحلے عبور کرنا ہوں گے۔ سب سے پہلے عوامی اور سیاسی بیانیہ بنایا جائے گا کہ بڑے صوبے انتظامی طور پر ناکام ہورہے ہیں، چھوٹے صوبے یا انتظامی یونٹس حکمرانی، وسائل کی تقسیم اور عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنا سکتے ہیں۔ اس کے بعد سیاسی جماعتوں کے اندر حمایت پیدا کرنا، پارلیمانی نمبرز حاصل کرنا اور متعلقہ صوبائی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت پیدا کرنا بنیادی ضرورت ہوگی۔

یہاں موجودہ اتحادی سیاست بھی اہم ہوجاتی ہے۔ وفاق میں مختلف جماعتیں ایک دوسرے کی سیاسی حلیف ہیں، لیکن نئے صوبوں کے معاملے پر ان کے مفادات ایک جیسے نہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی اس معاملے پر اپنی سب سے حساس سیاسی سرخ لکیر کھینچ چکی ہے، جبکہ ایم کیو ایم انتظامی اصلاحات اور نئے یونٹس کی بحث کو آگے بڑھانے کی خواہاں دکھائی دیتی ہے۔

پی ٹی آئی کی موجودہ خاموشی بھی اس بحث میں اہم عنصر بن سکتی ہے، کیونکہ ماضی میں پارٹی جنوبی پنجاب صوبے کی واضح حامی رہی ہے۔ اگر پی ٹی آئی مستقبل میں دوبارہ اس معاملے پر کھل کر مؤقف اختیار کرتی ہے تو نئے صوبوں کی بحث ایک نئی سیاسی شکل اختیار کرسکتی ہے۔ دوسری طرف اگر پارٹی خاموش رہتی ہے تو حکومت اور اس کے اتحادیوں کے لیے سیاسی طور پر مختلف راستے تلاش کرنا نسبتاً آسان ہوسکتا ہے۔

اصل کشمکش شاید یہی ہے کہ کیا نئے صوبے واقعی انتظامی ضرورت ہیں یا پھر یہ آنے والے سیاسی نقشے کو تبدیل کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں؟ چھوٹے صوبوں کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ بڑے صوبوں میں اختیارات کا ارتکاز عوام کو دور رکھتا ہے اور چھوٹے یونٹس سے حکمرانی بہتر ہوسکتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ صرف صوبے بنانے سے گورننس کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے؛ اصل ضرورت مضبوط بلدیاتی نظام، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور شفاف وسائل کی تقسیم ہے۔

یوں پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث اب ایک مرتبہ پھر محض سیاسی نعرہ نہیں رہی بلکہ یہ آئینی، انتظامی اور انتخابی سیاست کا بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ اگر یہ کشمکش آنے والے دنوں میں بڑھتی ہے تو سب سے زیادہ دباؤ سندھ، جنوبی پنجاب اور کراچی کے سیاسی مستقبل پر پڑ سکتا ہے۔

لیکن ایک بات واضح ہے: سندھ کی تقسیم کا راستہ انتہائی مشکل ہے۔ پیپلز پارٹی اس کے خلاف اسمبلی میں متحد نظر آرہی ہے، جبکہ آئین بھی متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی منظوری کو بنیادی شرط بناتا ہے۔ لہٰذا اگر کبھی پاکستان کا انتظامی نقشہ تبدیل ہوتا ہے تو یہ عمل صرف سیاسی خواہش سے نہیں بلکہ ایک بڑے آئینی اور سیاسی اتفاقِ رائے کے ذریعے ہی آگے بڑھ سکے گا۔

اب سوال یہ نہیں کہ نئے صوبوں کی بحث دوبارہ کیوں شروع ہوئی ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ بحث صرف انتظامی اصلاحات تک رہے گی، یا آنے والے دنوں میں پاکستان کے سیاسی نقشے کو واقعی تبدیل کرنے کی طرف بڑھے گی؟

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا