ایران اور امریکا میں پھر شدید جھڑپیں، خلیج میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی

0
2

گزشتہ دو روز، یعنی یکم اور 2 ستمبر 2026 کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان ایک ماہ سے جاری نسبتاً خاموشی ختم ہوگئی اور دونوں جانب سے شدید فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہوگئیں۔ امریکا نے ایران کے جنوبی علاقوں اور آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی فوجی تنصیبات، فضائی دفاعی نظام، ریڈار، سمندری اثاثوں، بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت اور مواصلاتی مراکز کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے امریکی فوجیوں اور تجارتی جہازوں کے خلاف خطرات اور آبنائے ہرمز میں کارروائیوں کے جواب میں کی گئیں۔

ایرانی ذرائع کے مطابق امریکی حملوں میں جنوبی ایران کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایک حملے میں ہرمزگان کے علاقے میں ایک شادی کی تقریب کے قریب شہری ہلاکتیں بھی ہوئیں۔ ایرانی حکام نے کم از کم 11 افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی، جن میں ایک بچے سمیت پانچ افراد کے شادی کی تقریب کے دوران مارے جانے کا دعویٰ بھی شامل ہے، جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ ہلاکتوں اور بعض دیگر نقصانات کے اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق مشکل ہے۔

ایران نے امریکی کارروائی کا جواب میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے دیا اور خطے میں امریکی مفادات اور اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ ایران کی جانب سے اردن، بحرین اور عراق میں امریکی تنصیبات پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ کویت نے بھی ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کا مقابلہ کرنے کی اطلاع دی۔ اردن نے کہا کہ اس نے ایران کی جانب سے داغے گئے متعدد میزائلوں کو فضا میں روک لیا، جبکہ امریکی حکام نے بعض مقامات پر بڑی جانی نقصان کی اطلاعات کی تردید کی۔

اس نئی کشیدگی کا سب سے بڑا عالمی اثر آبنائے ہرمز پر پڑ رہا ہے، جو دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ حالیہ لڑائی کے باعث اس راستے سے بحری ٹریفک نمایاں طور پر کم ہوئی ہے، جبکہ تیل کی قیمتیں بھی تیزی سے اوپر گئی ہیں۔ 2 ستمبر کو برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 95 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جس سے عالمی منڈیوں میں مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے خدشات دوبارہ بڑھ گئے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مزید کارروائی کی صورت میں سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے، جبکہ ایرانی حکام نے بھی واضح کیا ہے کہ امریکی حملوں کا جواب دیا جائے گا۔ یوں چند ہفتوں کی نسبتاً خاموشی کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان تنازع ایک مرتبہ پھر کھلے فوجی تصادم کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔

صورتحال اس لیے بھی انتہائی حساس ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی تیل کی سپلائی، شپنگ، فضائی سفر اور خطے کے دیگر ممالک کی سلامتی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس وقت سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا واشنگٹن اور تہران دوبارہ جنگ بندی یا مذاکرات کی طرف واپس آئیں گے، یا تازہ حملوں کا سلسلہ ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو جائے گا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا