پنجاب اسمبلی کا بڑا فیصلہ، 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی کی قرارداد منظور

0
1

پنجاب اسمبلی نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مؤثر قانونی پابندی عائد کرنے کی سفارش کرتے ہوئے قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی ہے۔ قرارداد حکومتی رکن اسمبلی اور چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو سارہ احمد نے پیش کی۔ اس میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر قانون سازی کی جائے اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان ایک مربوط نظام قائم کیا جائے۔

قرارداد میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سوشل میڈیا کے بے قابو استعمال سے بچے سائبر بُلنگ، آن لائن جنسی استحصال، نامناسب مواد، ذہنی دباؤ اور دیگر سنگین خطرات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ بچوں کی جسمانی، ذہنی، نفسیاتی اور اخلاقی نشوونما کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔

قرارداد میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کم عمر صارفین کی شناخت کے لیے مؤثر عمر کی تصدیق (Age Verification) کا نظام نافذ کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) اور متعلقہ اداروں کو کردار ادا کرنے، جبکہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو بچوں کے تحفظ کے معیارات پر عمل درآمد اور نقصان دہ مواد کی بروقت روک تھام یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ والدین، اساتذہ اور بچوں میں ڈیجیٹل سیفٹی اور ذمہ دارانہ انٹرنیٹ استعمال کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کے لیے مسلسل مہمات چلانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ قرارداد میں آسٹریلیا، فرانس، چین اور امریکا کی بعض ریاستوں میں کم عمر افراد کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق کیے گئے اقدامات کا بھی حوالہ دیا گیا۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ قرارداد فوری طور پر پورے پاکستان میں پابندی نافذ کرنے والا قانون نہیں بلکہ وفاقی حکومت کو قانون سازی اور مؤثر ضابطہ کار بنانے کی سفارش ہے۔ اس لیے اس تجویز کو عملی پابندی میں تبدیل کرنے کے لیے مزید قانونی اور انتظامی اقدامات درکار ہوں گے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا