راولپنڈی اور اسلام آباد میں طوفانی بارش، نشیبی علاقے زیرِ آب، نالہ لئی میں خطرناک حد تک پانی، تعلیمی ادارے بند

0
2

راولپنڈی اور اسلام آباد میں مون سون کے حالیہ اسپیل نے صورتحال کو انتہائی سنگین بنا دیا ہے اور منگل یکم ستمبر کی صبح ہونے والی موسلا دھار بارش کے بعد جڑواں شہروں کے متعدد نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے، اہم شاہراہوں پر کئی فٹ پانی جمع ہونے سے ٹریفک کا نظام شدید متاثر ہوا جبکہ راولپنڈی میں تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے۔ پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے مطابق بارش کا سلسلہ رات تقریباً 3 بج کر 20 منٹ پر شروع ہوا جو صبح 8 بجے تک جاری رہا، جبکہ راولپنڈی میں گزشتہ تین برس کے دوران ہونے والی سب سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

راولپنڈی میں شدید بارش کے باعث نالہ لئی میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہوئی اور صورتحال نے شہری سیلاب کا خطرہ پیدا کر دیا۔ دستیاب تازہ اطلاعات کے مطابق کٹاریاں کے مقام پر نالہ لئی میں پانی کی سطح 28 فٹ سے تجاوز کر گئی جبکہ گوالمنڈی کے مقام پر بھی پانی خطرناک حد تک بلند ریکارڈ کیا گیا۔ پانی کی سطح میں اضافے کے بعد نالہ لئی کے اطراف میں سائرن بجائے گئے اور انتظامیہ نے قریبی آبادیوں کے مکینوں کو محتاط رہنے اور ضرورت پڑنے پر محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے کی ہدایت کی۔

راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی سڑکوں اور گلیوں میں داخل ہوگیا۔ لیاقت باغ، مری روڈ، کمیٹی چوک انڈر پاس، ڈھوک کھبہ، سرکلر روڈ، صادق آباد اور دیگر نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض مقامات پر پانی اتنا زیادہ جمع ہوا کہ گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں پانی میں پھنس گئیں، جبکہ کئی علاقوں میں شہریوں کو آمدورفت میں دشواری پیش آئی۔ Safdarabad، صادق آباد، ڈھوک کھبہ، پیرودھائی، فوجی کالونی، جاوید کالونی اور آریہ محلہ بھی بارش سے متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں۔

بارش کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صبح 8 بج کر 30 منٹ تک گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسلام آباد کے آئی ایٹ تھری میں 212.6 ملی میٹر، آئی نائن ٹو میں 205 ملی میٹر، جبکہ راولپنڈی کے سیٹلائٹ ٹاؤن بلاک ای میں 175.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ اسلام آباد کے دی لاسٹ ٹرائب میں 175 ملی میٹر، او جی ڈی سی ایل آفس میں 168.4 ملی میٹر، ڈی 12 میں 163.6 ملی میٹر، کلثوم انٹرنیشنل میں 143.6 ملی میٹر، شکرپڑیاں میں 142.8 ملی میٹر، ای 7 میں 140.4 ملی میٹر، شاہ اللہ دتہ میں 131 ملی میٹر، چک شہزاد میں 122.8 ملی میٹر، نسٹ یونیورسٹی میں 116.8 ملی میٹر اور جی 10/2 میں 108.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

راولپنڈی کے دیگر علاقوں میں کار چوک پر 96.4 ملی میٹر، عسکری 14 میں 27.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، جبکہ ٹیکسلا، واہ کینٹ، اٹک اور خیبر پختونخوا کے متعدد علاقوں میں بھی بارش ریکارڈ کی گئی۔ اس بارش نے واضح کر دیا ہے کہ جڑواں شہروں میں شہری نکاسی آب کا نظام شدید بارش کے دباؤ میں کس حد تک متاثر ہو سکتا ہے۔

شدید بارش کے پیش نظر راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے آج تمام سرکاری اور نجی اسکولوں میں تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کی بندش کا فیصلہ بچوں اور والدین کو بارش، زیرِ آب سڑکوں اور ٹریفک کی مشکلات سے محفوظ رکھنے کے لیے کیا گیا۔ اسلام آباد میں بھی متعدد تعلیمی اداروں کے حوالے سے تعلیمی سرگرمیوں میں تبدیلی اور آن لائن کلاسز کے انتظامات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

راولپنڈی واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی یعنی واسا نے شدید بارش کے بعد شہر میں رین ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے اپنے عملے اور بھاری مشینری کو مختلف حساس علاقوں میں تعینات کر دیا۔ لیاقت باغ، کمیٹی چوک انڈر پاس، مری روڈ، ڈھوک کھبہ، سرکلر روڈ اور صادق آباد سمیت نشیبی علاقوں میں پانی کی نکاسی کے لیے خصوصی ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔ نالہ لئی اور شہر کے دیگر نالوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح میں مزید اضافے کی صورت میں فوری کارروائی کی جا سکے۔

اسلام آباد میں بھی موسلا دھار بارش کے باعث متعدد شاہراہوں پر پانی کھڑا ہوگیا جس سے ٹریفک کی روانی سست ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اسلام آباد ٹریفک پولیس نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ بارش کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں، اگر سفر ضروری ہو تو اضافی وقت لے کر گھروں سے نکلیں، گاڑی اور موٹر سائیکل کی رفتار کم رکھیں اور آگے چلنے والی گاڑی سے مناسب فاصلہ برقرار رکھیں۔ ٹریفک پولیس نے ڈرائیورز کو فوگ لائٹس استعمال کرنے، اپنی لین میں رہنے، سائیڈ شیشوں اور انڈیکیٹرز کا درست استعمال کرنے اور سیٹ بیلٹ باندھنے کی بھی ہدایت کی ہے، جبکہ موٹر سائیکل سواروں کو ہیلمٹ پہننے اور انتہائی بائیں لین میں سفر کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ اور فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کی جانب سے بھی جڑواں شہروں اور بالائی پنجاب کے لیے بارش کے حوالے سے پہلے ہی الرٹ جاری کیا گیا تھا۔ 31 اگست کی رات اور یکم ستمبر کو اسلام آباد، راولپنڈی سمیت متعدد علاقوں کے نشیبی مقامات میں شہری سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق یکم سے 5 ستمبر تک بالائی پنجاب، بالائی دریائی کیچمنٹس اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے جبکہ دریاؤں اور ان سے منسلک نالوں میں پانی کے بہاؤ میں بھی اضافہ متوقع ہے۔

صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر انتظامیہ، واسا، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس، میونسپل کارپوریشن اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ نالہ لئی کے اطراف میں رہنے والے شہریوں کو خصوصی طور پر محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے کیونکہ مسلسل بارش کی صورت میں پانی کی سطح مزید بلند ہو سکتی ہے۔

پاک فوج کی مدد کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق پاک فوج کی 111 بریگیڈ انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں ہے جبکہ فوج، ریسکیو 1122، پاکستان رینجرز اور دیگر ادارے امدادی کارروائیوں کے لیے موجود ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق شدید بارش اور شہری سیلاب کی صورتحال کے باعث پاک فوج کو ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں معاونت کے لیے طلب بھی کیا گیا ہے۔

انتظامیہ کی جانب سے شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ نالوں، برساتی گزرگاہوں اور زیرِ آب سڑکوں کے قریب جانے سے گریز کریں، غیر ضروری سفر نہ کریں اور بچوں کو بارش کے دوران باہر نکلنے سے روکیں۔ خاص طور پر نالہ لئی کے اطراف رہنے والے شہری انتظامیہ کی ہدایات پر فوری عمل کریں اور پانی کی سطح بڑھنے کی صورت میں محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونے میں تاخیر نہ کریں۔

موسلا دھار بارش کے باعث جڑواں شہروں میں پیدا ہونے والی صورتحال نے ایک مرتبہ پھر شہری نکاسی آب کے نظام کی استعداد پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ تاہم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تمام متعلقہ ادارے فیلڈ میں موجود ہیں، پانی کی نکاسی کے لیے مشینری استعمال کی جا رہی ہے اور نالہ لئی سمیت تمام اہم نالوں کی مسلسل نگرانی جاری ہے۔ آئندہ چند گھنٹے اس حوالے سے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں کیونکہ محکمہ موسمیات کے مطابق بارش کا سلسلہ یکم ستمبر کے بعد بھی بالائی پنجاب کے مختلف علاقوں میں جاری رہ سکتا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا