عمران خان اور بشریٰ بی بی کی مبینہ قیدِ تنہائی کیس میں بڑا عدالتی فیصلہ، ملاقاتوں اور فون کالز سمیت سہولیات فراہم کرنے کا حکم

0
1

اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو مبینہ طور پر قیدِ تنہائی میں رکھنے سے متعلق درخواستوں پر اہم فیصلہ سنا دیا ہے۔ جسٹس خادم حسین سومرو نے محفوظ فیصلہ جاری کرتے ہوئے درخواستوں کو قابلِ سماعت قرار دیا اور اڈیالہ جیل حکام کو ہدایت کی کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں نہ رکھا جائے۔ عدالت نے جیل حکام کو دونوں کے درمیان جیل قوانین کے مطابق ملاقات کرانے کی بھی ہدایت کی ہے۔

عدالتی حکم کے مطابق عمران خان کو جیل قوانین کے تحت اپنے اہلِ خانہ سے ملاقات کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ ان کے بیٹوں سے ٹیلی فون پر گفتگو کے لیے بھی انتظامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ سہولت جیل قوانین کے مطابق ہوگی۔ بعض رپورٹس کے مطابق اگر عمران خان کی آڈیو گفتگو کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تو ٹیلی فون کی سہولت واپس لینے کا معاملہ بھی زیرِ غور آ سکتا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کو روزانہ اخبارات اور کتابیں فراہم کرنے جبکہ جیل رولز کے مطابق طبی سہولیات یقینی بنانے کا بھی حکم دیا ہے۔ جیل سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی گئی ہے کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنائیں اور مقررہ مدت میں اس حوالے سے رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔

یہ درخواستیں عمران خان کی بہن علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے مبشرہ خاور مانیکا نے دائر کی تھیں، جن میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ دونوں کو جیل میں عملاً تنہائی میں رکھا جا رہا ہے اور اہلِ خانہ سے ملاقات سمیت دیگر سہولیات محدود ہیں۔ دوسری جانب جیل حکام کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا تھا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو باضابطہ طور پر قیدِ تنہائی کی سزا نہیں دی گئی اور انہیں جیل قواعد کے مطابق مختلف سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے اس معاملے میں جیل قوانین اور سابق عدالتی فیصلوں کو بھی مدنظر رکھا۔ جسٹس خادم حسین سومرو نے اس سے قبل جیل حکام سے تفصیلی ریکارڈ اور رپورٹ طلب کرتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ اگر کسی قیدی کو تنہائی میں رکھا جائے تو اس کی قانونی بنیاد کیا ہے، کتنی مدت کے لیے رکھا جا سکتا ہے اور آیا قیدِ تنہائی کو بطور سزا استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

عدالت نے اپنے تازہ فیصلے میں نصرت بھٹو کیس اور بیگم شمیم آفریدی کیس میں طے کیے گئے اصولوں کی روشنی میں درخواستوں کو قابلِ سماعت قرار دیا اور اڈیالہ جیل حکام کو واضح ہدایات جاری کر دیں۔ اس فیصلے کے بعد اب عمران خان اور بشریٰ بی بی کے جیل میں ملاقاتوں، اہلِ خانہ سے رابطے اور دیگر بنیادی سہولیات کے حوالے سے عدالتی احکامات پر عملدرآمد اہم مرحلہ ہوگا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا