غیرملکی کرنسی میں پنشن لینے والے ریٹائرڈ افسران کے نام سامنے آگئے، پانچ سال میں 34 کروڑ روپے سے زائد کی ادائیگی

0
1

اسلام آباد: بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ریٹائرڈ افسران کو غیرملکی کرنسی میں پنشن کی ادائیگی کے معاملے میں اہم تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ سرکاری دستاویزات اور وزارتِ خزانہ کے قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے تحریری جواب کے مطابق 2021 سے اب تک بیرونِ ملک مقیم 33 پنشنرز کو مجموعی طور پر 34 کروڑ 21 لاکھ 9 ہزار 614 روپے کے برابر غیرملکی کرنسی میں پنشن ادا کی جا چکی ہے۔

دستاویزات کے مطابق غیرملکی کرنسی میں پنشن وصول کرنے والے یہ پنشنرز مختلف ممالک میں مقیم ہیں اور پاکستانی سفارتی مشنز کے ذریعے انہیں پنشن کی ادائیگی کی جاتی ہے۔ سب سے زیادہ پنشنرز امریکہ میں موجود ہیں، جہاں واشنگٹن میں 11 اور نیویارک میں 10 پنشنرز کو ادائیگی کی جا رہی ہے، جبکہ کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں بھی چار پنشنرز کو پنشن مل رہی ہے۔ اس کے علاوہ ہیوسٹن، ٹورنٹو، وینکوور، لندن، کینبرا، ویانا اور اسٹاک ہوم سمیت دیگر شہروں میں بھی بیرونِ ملک مقیم پاکستانی پنشنرز کو ادائیگی کی جا رہی ہے۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق ان پنشنرز کو ڈالر پروٹیکشن حاصل نہیں ہے، یعنی پاکستانی روپے کی قدر میں کمی یا غیرملکی کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ سے پیدا ہونے والے زرِمبادلہ کے نقصان کا بوجھ حکومت کے بجائے پنشنر خود برداشت کرتا ہے۔ سرکاری جواب کے مطابق ایسے پنشنرز کی پنشن بنیادی طور پر پاکستانی روپے میں مقرر ہوتی ہے، جبکہ پاکستانی مشنز کے ذریعے چیف اکاؤنٹس آفیسر متعلقہ بینک میں غیرملکی کرنسی منتقل کرتا ہے۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق بیرونِ ملک مقیم ان پنشنرز کا تعلق مختلف وزارتوں، محکموں اور سرکاری دفاتر سے ہے۔ ان میں بڑی تعداد ایسے افسران کی ہے جو کئی دہائیاں قبل سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوئے تھے۔ دستیاب دستاویزات میں سابق سفیر ولی اللہ خان کے خاندان کا نام بھی شامل ہے، جبکہ سابق سفارتی افسران نجمہ عابدہ اور قریشہ بیگم کے خاندانوں کے حوالے سے بھی غیرملکی کرنسی میں پنشن وصول کرنے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

دستاویزات کے مطابق نسیمہ یونس کا خاندان اوٹاوا میں پنشن وصول کرتا ہے، جبکہ سابق ڈائریکٹر جنرل مسمات شمیم خالد واشنگٹن میں غیرملکی کرنسی میں پنشن وصول کرنے والوں میں شامل ہیں۔ سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل پی اللہ ریحام کے حوالے سے بھی نیویارک میں پنشن وصول کرنے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ دیگر ناموں میں سلامت نور، مسمات لیاقت، اعجاز احمد، محمد رمضان، شیرین رحمت اللہ اور مسمات عینی شفقت شامل بتائے گئے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق گزشتہ پانچ سال کے دوران واشنگٹن میں موجود 11 پنشنرز کو مجموعی طور پر تقریباً 13 کروڑ 50 لاکھ روپے، نیویارک میں 10 پنشنرز کو تقریباً 10 کروڑ روپے جبکہ آسٹریلیا میں چار پنشنرز کو تقریباً ڈھائی کروڑ روپے کے برابر رقم ادا کی گئی۔ باقی پنشنرز کو دیگر ممالک میں مجموعی طور پر تقریباً تین کروڑ روپے کی ادائیگی کی گئی۔

تاہم وزارتِ خزانہ کے تازہ تحریری جواب کے مطابق بیرونِ ملک منتقل ہونے والے ان پنشنرز کے بارے میں تمام معلومات متعلقہ پنشن ریکارڈ میں لازماً دستیاب نہیں ہوتیں، کیونکہ پنشنرز پر بیرونِ ملک منتقل ہونے کی اطلاع اے جی پی آر کو دینا قانونی طور پر لازم نہیں۔ بیرونِ ملک مقیم پنشنرز کے لیے بنیادی طور پر پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کی شرط موجود ہے، جبکہ وزارت کے مطابق اے جی پی آر کے پاس ہر پنشنر کی موجودہ رہائش گاہ معلوم کرنے اور اس کی باقاعدہ تصدیق کرنے کا مؤثر طریقہ موجود نہیں۔

یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت کی جانب سے سرکاری اخراجات، پنشن کے بڑھتے ہوئے بوجھ اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانی پنشنرز کو ادائیگیوں کے طریقہ کار کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ 33 پنشنرز کو چند برسوں کے دوران 34 کروڑ روپے سے زائد کی ادائیگی نے اس معاملے کو مزید اہم بنا دیا ہے، جبکہ بیرونِ ملک مقیم پنشنرز کی رہائش اور پنشن کی مسلسل ادائیگی کی نگرانی کے نظام پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

وزارتِ خزانہ نے تاہم واضح کیا ہے کہ غیرملکی کرنسی میں پنشن کی ادائیگی کی صورت میں روپے کی قدر میں کمی کا مالی اثر براہِ راست حکومت کے ذمے نہیں آتا بلکہ پنشنر خود اس کا اثر برداشت کرتا ہے۔ اس لیے معاملے میں اصل بحث صرف ادائیگی کی مجموعی رقم نہیں بلکہ بیرونِ ملک مقیم پنشنرز کے ریکارڈ، تصدیق، نگرانی اور پنشن کی ادائیگی کے موجودہ طریقہ کار سے بھی متعلق ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا