کوئٹہ: بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پشین کے علاقے زیارت کراس میں مسلح افراد نے پولیس چوکی اور کسٹمز ویئر ہاؤس کو نشانہ بنایا، جبکہ دالبندین میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں مسلح افراد کی ہلاکتوں کی ویڈیوز بھی سامنے آنے کی اطلاعات ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق زیارت کراس پر مسلح افراد نے رات گئے پولیس چوکی اور کسٹمز ویئر ہاؤس پر حملہ کیا۔ حملے کے دوران سیکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
فائرنگ کے تبادلے کے بعد حملہ آوروں نے کسٹمز ویئر ہاؤس میں کھڑی گاڑیوں کو آگ لگا دی، جس کے باعث علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
اطلاع ملنے پر پی ڈی ایم اے کی ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ حکام کے مطابق ویئر ہاؤس میں کھڑی گاڑیوں میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے، تاہم کولنگ کا عمل جاری رکھا گیا۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق واقعے کے بعد 12 ایمبولینسیں بھی جائے وقوعہ پر موجود رہیں، جبکہ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق حملے میں متعدد سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ ابتدائی اطلاعات میں 5 سیکیورٹی اہلکاروں کے شہید ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ تاہم بعض تازہ میڈیا رپورٹس میں شہادتوں کی تعداد 7 بھی بتائی گئی ہے، جس کی حتمی سرکاری تصدیق کا انتظار ہے۔
شہید اہلکاروں کی میتیں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ علاقے میں سیکیورٹی فورسز کا کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری ہے۔
دوسری جانب بلوچستان کے علاقے دالبندین میں بھی سیکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران مسلح افراد کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ کارروائی کے بعد ہلاک ہونے والے افراد کی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں۔
دالبندین میں حالیہ عرصے کے دوران سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہی ہیں۔ گزشتہ روز بھی بلوچستان کے واشک میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے دو مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کی اطلاع دی تھی، جن کے بارے میں سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ وہ ماشخیل پولیس اسٹیشن اور کسٹمز ہاؤس پر حملوں میں ملوث تھے۔
زیارت کراس حملے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات بھی جاری ہیں۔
بلوچستان میں یکے بعد دیگرے پیش آنے والے ان واقعات کے بعد سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کیے جانے کا امکان ہے۔ حکام کی جانب سے حملے میں ملوث عناصر کی شناخت اور واقعے کے محرکات کے حوالے سے مزید معلومات سامنے آنے کا انتظار ہے۔
