اسلام آباد: سرکاری ملازمین کے سوشل میڈیا اور میڈیا کے استعمال کو مزید ضابطے میں لانے کی تیاری کر لی گئی ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کابینہ سیکریٹریٹ کے اجلاس میں اسٹبلشمنٹ ڈویژن کے حکام نے بتایا کہ سرکاری ملازمین کے سوشل میڈیا اور میڈیا استعمال سے متعلق نئے رولز تیار کیے گئے ہیں، جبکہ ان پر نظر رکھنے کے لیے ایک مانیٹرنگ سیل بھی قائم کیا جا رہا ہے۔
اجلاس میں حکام نے بتایا کہ نئے ضوابط کے تحت سرکاری ملازمین کو سوشل میڈیا پر اپنی ذاتی تشہیر سے گریز کرنا ہوگا۔ کمیٹی کے چیئرمین رانا محمود الحسن نے اس معاملے پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’’سارے افسران سوشل میڈیا پر اپنی کچہری کر رہے ہیں۔‘‘
اسٹبلشمنٹ ڈویژن حکام کے مطابق سرکاری ملازمین کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کے حوالے سے پہلے سے بھی قواعد موجود ہیں، تاہم ان پر عمل درآمد کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق 2 ستمبر 2024 کو اسٹبلشمنٹ ڈویژن نے واضح کیا تھا کہ Government Servants (Conduct) Rules, 1964 کے تحت کوئی سرکاری ملازم حکومت کی واضح اجازت کے بغیر کسی میڈیا پلیٹ فارم پر حصہ نہیں لے سکتا۔ ان قواعد میں سرکاری معلومات یا دستاویزات غیرمجاز افراد یا میڈیا کے ساتھ شیئر کرنے، حکومت کو شرمندگی سے دوچار کرنے والے بیانات دینے اور قومی سلامتی، عوامی نظم، اخلاقیات یا دیگر قانونی حدود کی خلاف ورزی کرنے والی سرگرمیوں پر پابندیاں شامل ہیں۔
حکام نے کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ سرکاری ملازمین کی غیرملکی شہریت کے حوالے سے بھی نئے ضوابط متعارف کرائے گئے ہیں۔ ملازمین کو اپنی غیرملکی شہریت ظاہر کرنے کے لیے 30 دن کی مہلت دی گئی تھی۔ جن ملازمین نے شہریت ڈکلیئر نہیں کی، انہیں خطوط بھیجے جا رہے ہیں، جبکہ مقررہ وقت میں جواب جمع نہ کرانے والوں کے خلاف مس کنڈکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
حکام کے مطابق ایسے افراد بھی بھرتی کے وقت اپنی غیرملکی پیدائش کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔ اسی طرح بیرونِ ملک تعیناتی کے دوران غیرملکی شہریت حاصل کرنے والے ملازمین کے حوالے سے بھی قواعد کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
یہ پہلو بھی اہم ہے کہ سوشل میڈیا کے حوالے سے حکومت پہلے ہی کئی بار قواعد جاری کر چکی ہے۔ 2020 اور 2021 میں جاری ہدایات میں بھی سرکاری ملازمین کو بغیر اجازت میڈیا پلیٹ فارمز پر سرکاری معاملات پر اظہارِ خیال، غیرمجاز معلومات شیئر کرنے اور ایسی سرگرمیوں سے روکا گیا تھا جو حکومتی پالیسی یا سرکاری فرائض کے منافی سمجھی جائیں۔
اب نئے مانیٹرنگ سیل کے قیام کے بعد اصل توجہ اس بات پر ہوگی کہ ان قواعد پر عمل درآمد کس انداز میں کیا جاتا ہے اور سوشل میڈیا پر موجود لاکھوں سرکاری ملازمین کی سرگرمیوں کی نگرانی کس طریقہ کار کے تحت ہوگی۔
یہاں ایک اہم سوال بھی پیدا ہوتا ہے: سرکاری ملازم اور عام شہری کی سوشل میڈیا آزادی کے درمیان حد کہاں مقرر کی جائے گی؟
سرکاری ملازمین پر سرکاری راز، حساس معلومات اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں کے تحفظ کے لیے پابندیاں قابلِ فہم ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق ایسے ضوابط کا اطلاق واضح، شفاف اور یکساں ہونا بھی ضروری ہے تاکہ ذاتی رائے، سرکاری معلومات اور غیرقانونی سرگرمی کے درمیان فرق برقرار رہے۔
بالآخر مقصد یہ ہونا چاہیے کہ سرکاری ملازم سوشل میڈیا کو ذاتی تشہیر یا ادارے کے مفاد کے خلاف استعمال نہ کریں، لیکن ساتھ ہی قواعد اتنے واضح ہوں کہ ان کا غلط یا غیرضروری استعمال بھی نہ ہو۔
سوال اب یہ نہیں کہ سوشل میڈیا پر قواعد ہونے چاہئیں یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ ان قواعد کا اطلاق کتنا شفاف، منصفانہ اور قابلِ احتساب ہوگا۔
