آزاد کشمیر میں کئی عرصے سے جاری انٹرنیٹ کی بندش کے بعد حکومت نے 31 اگست سے آٹھ اضلاع میں انٹرنیٹ سروس مرحلہ وار بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم یہ بحالی ہر علاقے میں یکساں نہیں ہوگی، بلکہ بعض مقامات پر انٹرنیٹ کی سہولت صرف تعلیمی اداروں اور بینکوں تک محدود رکھی جائے گی۔
آزاد کشمیر حکومت نے انٹرنیٹ سروسز کی بحالی کے لیے وفاقی وزارتِ داخلہ کو باضابطہ درخواست بھی ارسال کر دی ہے۔ محکمہ داخلہ آزاد کشمیر کے نوٹیفکیشن کے مطابق مختلف اضلاع اور علاقوں میں دستیاب سہولت کے مطابق DSL اور 3G/4G سروسز بحال کی جائیں گی۔
مظفرآباد ڈویژن کے مختلف علاقوں میں مرحلہ وار انٹرنیٹ بحالی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مظفرآباد ضلع میں تعلیمی اداروں اور بینکوں کے لیے صرف DSL سروس دستیاب ہوگی، جبکہ باغ شہر اور دھیرکوٹ میں بھی تعلیمی اداروں اور بینکوں کے لیے محدود DSL سروس بحال کی جائے گی۔
حویلی کہوٹہ میں DSL کے ساتھ 3G اور 4G انٹرنیٹ سروس بھی بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح میرپور اور بھمبر کے مکمل اضلاع میں DSL انٹرنیٹ سروس دستیاب ہوگی، جبکہ کوٹلی میں تعلیمی اداروں اور بینکوں کے لیے DSL سروس بحال کی جائے گی۔
تاہم تمام علاقوں کو اس مرحلے میں انٹرنیٹ کی سہولت نہیں مل سکے گی۔ سہنسہ، سرساوہ، بلوچ اور تتہ پانی میں DSL سروس بحال نہیں ہوگی، جبکہ راولاکوٹ اور سدھنوتی میں بھی فی الحال انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔
حکومت نے انٹرنیٹ سروس کی بحالی کے ساتھ کچھ شرائط بھی عائد کی ہیں۔ تعلیمی اداروں کے سربراہان اور بینک برانچز کے ذمہ داران کو حلف نامے جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حلف نامے میں اس بات کی یقین دہانی کرانا ہوگی کہ فراہم کیا جانے والا انٹرنیٹ کنکشن ریاستی مفادات، قومی سلامتی اور عوامی نظم کے خلاف استعمال نہیں ہوگا۔
دوسری جانب آئندہ انٹرنیٹ کی بندش کے فیصلے کو سوشل میڈیا صارفین کے رویے سے بھی مشروط کیا گیا ہے۔ یعنی حکومت کے مطابق سوشل میڈیا پر ہونے والی سرگرمیوں اور صارفین کے رویے کو دیکھتے ہوئے مستقبل میں انٹرنیٹ سروس کے حوالے سے مزید فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انٹرنیٹ صرف رابطے کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ تعلیم، بینکاری، کاروبار، روزگار اور روزمرہ زندگی کا ایک بنیادی حصہ بن چکا ہے۔ اس لیے عوام کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ مرحلہ وار بحالی عملی طور پر کب اور کتنی مؤثر ثابت ہوتی ہے، اور باقی علاقوں کے شہریوں کو مکمل انٹرنیٹ سہولت کب میسر آتی ہے۔
