کلر سیداں میں 9 سالہ مدرسہ طالب علم کی مبینہ تشدد سے ہلاکت، 2 ملزمان گرفتار

0
2

راولپنڈی کے علاقے کلر سیداں میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں مدرسے میں زیرِ تعلیم 9 سالہ طالب علم محمد فیضان مبینہ تشدد کے بعد جاں بحق ہوگیا۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے دو افراد کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔

پولیس کے مطابق محمد فیضان کا تعلق ضلع بھکر سے تھا اور وہ تقریباً چار ماہ قبل کلر سیداں کے علاقے نلہ مسلماناں میں قائم ایک مدرسے میں دینی تعلیم حاصل کرنے آیا تھا۔ مقامی رپورٹس کے مطابق بچے کو مدرسے میں ایک استاد کی نگرانی میں رکھا گیا تھا۔

واقعے کے مطابق بچے کی طبیعت خراب ہونے پر مدرسے کی انتظامیہ نے اہلِ خانہ کو اطلاع دی اور اسے اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم والدین کے پہنچنے سے قبل ہی بچہ دم توڑ گیا۔

بعد ازاں اہلِ خانہ بچے کی میت آبائی علاقے بھکر لے گئے۔ وہاں غسل کے دوران والدین نے بچے کے جسم پر مبینہ تشدد کے نشانات دیکھے تو انہیں شدید تشویش ہوئی اور انہوں نے فوری طور پر پولیس سے رابطہ کیا۔

پولیس کے مطابق بچے کی میت واپس کلر سیداں لائی گئی، جہاں اس کا پوسٹ مارٹم کرایا گیا۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے دو افراد کو حراست میں لے لیا ہے اور ان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

ابتدائی اطلاعات میں مدرسے کے ایک استاد کے موقع سے فرار ہونے کا بھی ذکر سامنے آیا تھا، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران جو بھی شخص واقعے میں ملوث پایا گیا، اسے قانون کے مطابق گرفتار کیا جائے گا۔

راولپنڈی پولیس کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ بچوں پر تشدد کسی صورت قابلِ قبول نہیں اور واقعے میں ملوث عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

یہ واقعہ صرف ایک خاندان کے لیے ناقابلِ بیان صدمہ نہیں بلکہ بچوں کے تحفظ کے حوالے سے بھی سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ والدین اپنے بچوں کو تعلیم اور دینی تربیت کے لیے اداروں کے حوالے کرتے ہیں، اس لیے ہر تعلیمی ادارے کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ بچے کو محفوظ ماحول فراہم کیا جائے۔

تاہم حتمی ذمہ داری کا تعین پولیس کی تفتیش، پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر شواہد سامنے آنے کے بعد ہی ہوسکے گا۔ اس لیے تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے کسی فرد کو حتمی طور پر ذمہ دار قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے میں جو بھی شخص ملوث پایا گیا، اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ اب اہم مرحلہ یہ ہے کہ تحقیقات شفاف انداز میں مکمل کی جائیں اور اگر تشدد ثابت ہوتا ہے تو ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دلائی جائے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا