علی پور ہنی ٹریپ کیس: اگر محافظ ہی شکاری بن جائیں تو شہری کس سے انصاف مانگے؟

0
2

پنجاب کے ضلع علی پور سے سامنے آنے والی ہنی ٹریپ کی یہ مبینہ واردات صرف ایک شہری کے اغوا، تشدد اور لوٹ مار کا معاملہ نہیں بلکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کی ساکھ پر ایک انتہائی سنگین سوال ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایک شہری کو خواتین کے ذریعے مبینہ طور پر ہنی ٹریپ کیا گیا، اسے ایک جگہ بلایا گیا اور بعد ازاں اغوا کرلیا گیا۔ متاثرہ شہری کا مؤقف ہے کہ اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ملزمان نے خود کو کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ یعنی CCD کے اہلکار ظاہر کیا۔ معاملے میں تین پولیس اہلکاروں اور دو خواتین سمیت آٹھ افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

یہاں اصل سوال یہ ہے کہ اگر پولیس کی وردی، عہدہ اور اختیار ہی کسی شہری کو پھانسنے، ڈرانے یا لوٹنے کے لیے استعمال ہونے لگے تو عام آدمی آخر کس دروازے پر جائے؟

پولیس کا بنیادی فرض شہریوں کو تحفظ دینا ہے۔ پولیس اہلکار سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ قانون کی حفاظت کرے گا، مظلوم کی مدد کرے گا اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کرے گا۔ لیکن اگر کسی پولیس اہلکار پر ہی یہ الزام لگ جائے کہ اس نے جرم کے لیے اپنی سرکاری حیثیت یا ادارے کا نام استعمال کیا، تو یہ معاملہ عام شہری کے جرم سے کہیں زیادہ سنگین ہو جاتا ہے، کیونکہ اس سے پورے ادارے پر عوام کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔

یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ مقدمہ درج ہونا جرم ثابت ہونے کے برابر نہیں۔ جن اہلکاروں اور دیگر افراد پر الزامات ہیں، انہیں عدالت میں صفائی کا مکمل حق حاصل ہے۔ لیکن اسی اصول کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ تحقیقات کسی دباؤ، سفارش یا ادارہ جاتی جانبداری کے بغیر ہوں اور اگر الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو کسی کو محض وردی یا عہدے کی وجہ سے رعایت نہ ملے۔

پاکستان میں گزشتہ عرصے کے دوران ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جہاں پولیس اہلکاروں پر شہریوں کو ہراساں کرنے یا اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال کے الزامات لگے اور کارروائی بھی ہوئی۔ حال ہی میں لاہور میں تین پولیس اہلکاروں کو ایک شہری کو مبینہ طور پر ہراساں کرکے رقم وصول کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ واقعات ہمیں ایک بنیادی سوال کی طرف لے جاتے ہیں: کیا پولیس میں احتساب کا نظام اتنا مضبوط ہے کہ وردی پہننے والا شخص بھی قانون کے سامنے جواب دہ ہو؟

اگر کوئی عام شہری کسی دوسرے شخص کو ہنی ٹریپ کرکے اغوا کرے، تشدد کرے یا لوٹے تو اس کے خلاف قانون حرکت میں آتا ہے۔ پھر اگر یہی الزام کسی پولیس اہلکار پر لگے تو تحقیقات کا معیار مزید بلند ہونا چاہیے، کم نہیں۔

کیونکہ وردی صرف کپڑا نہیں، ریاست کے اختیار کی علامت ہے۔

ایک شہری جب پولیس اہلکار کو دیکھتا ہے تو اسے خوف نہیں بلکہ تحفظ محسوس ہونا چاہیے۔ اگر یہی احساس تبدیل ہو کر خوف، بے اعتمادی اور بے بسی میں بدل جائے تو یہ صرف پولیس کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ پورے نظامِ حکمرانی کا مسئلہ بن جاتا ہے۔

علی پور کا یہ کیس اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ معاملے کی غیر جانب دار اور شفاف تحقیقات کی جائیں، تمام شواہد سامنے لائے جائیں، متاثرہ شہری کو تحفظ دیا جائے، اور اگر کوئی اہلکار واقعی اختیارات کے ناجائز استعمال میں ملوث پایا جائے تو اسے عام ملزم کی طرح نہیں بلکہ قانون کے مطابق سخت احتساب کا سامنا کرنا چاہیے۔

کیونکہ ریاست کی طاقت کا مطلب یہ نہیں کہ وردی پہننے والے کو اختیار مل جائے کہ وہ شہری کو خوفزدہ کرے۔

ریاست کی اصل طاقت یہ ہے کہ وہ اپنے ہی اہلکار کو بھی قانون کے تابع رکھے۔

عوام کو پولیس سے دشمنی نہیں، تحفظ چاہیے۔ انہیں وردی سے خوف نہیں، اعتماد چاہیے۔ اور انہیں یہ یقین چاہیے کہ اگر ان کے ساتھ ظلم ہو تو قانون ان کے ساتھ کھڑا ہوگا۔

اگر محافظ ہی قانون کی حدود پر سوالیہ نشان بن جائیں تو پھر عام شہری اپنی حفاظت کے لیے کس پر بھروسہ کرے؟

یہ سوال علی پور سے اٹھا ہے، لیکن اس کا جواب پورے نظام کو دینا ہوگا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا