ایبٹ آباد میں پانچ سالہ بچی سے مبینہ زیادتی: یہ پاکستان ہے یا ناپاک ستان؟

0
1

ایبٹ آباد کے علاقے نملی میرا میں پانچ سالہ طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کا واقعہ ایک بار پھر پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔

تھانہ بگنوتر پولیس کے مطابق حبیب پبلک اسکول پر کارروائی کرتے ہوئے اسکول کے مالک اور پرنسپل کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور انہیں مزید پوچھ گچھ کے لیے تھانے منتقل کیا گیا ہے۔ پولیس نے کمسن طالبہ کا دوبارہ طبی معائنہ کرانے کا بھی فیصلہ کیا ہے، جو ڈی ایچ کیو ایبٹ آباد میں ماہر ڈاکٹر کی نگرانی میں ہوگا۔

یہاں سوال صرف ایک مقدمے کا نہیں، بلکہ پورے نظام کا ہے۔

ایک پانچ سالہ بچی، جس کے ہاتھ میں کتاب اور بستہ ہونا چاہیے، اگر وہی بچی اسکول جیسی محفوظ سمجھی جانے والی جگہ سے مبینہ زیادتی کا شکار ہو کر نکلے تو سوال اٹھتا ہے کہ ہماری ترجیحات کہاں ہیں؟ والدین اپنے بچوں کو تعلیم کے لیے اسکول بھیجیں یا ہر لمحہ ان کی حفاظت کے خوف میں مبتلا رہیں؟

سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ایسے واقعات سامنے آنے کے بعد چند دن شور مچتا ہے، گرفتاریاں ہوتی ہیں، بیانات آتے ہیں، احتجاج ہوتا ہے، پھر معاملہ فائلوں کے نیچے دب جاتا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر عوام کو بتائیے کہ بچوں کے خلاف جرائم میں سزا کا تناسب کیا ہے؟ کتنے ملزمان واقعی منطقی انجام تک پہنچے؟ اور کتنے بااثر افراد قانون کی گرفت سے باہر نکل گئے؟

اگر کسی واقعے پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرنے والے بااثر افراد کے خلاف نعرے لگائے گئے ہیں تو ریاست کی ذمہ داری ہے کہ تحقیقات کرے اور کسی دباؤ کے بغیر قانون پر عمل درآمد یقینی بنائے۔

یہ ملک صرف تقریروں، نعروں اور دعووں سے محفوظ نہیں ہوگا۔ قانون کی بالادستی اس وقت ثابت ہوگی جب ایک غریب کی بیٹی اور ایک بااثر شخص کی بیٹی کے لیے انصاف کا معیار ایک ہی ہوگا۔

عوام آخر کہاں جائیں؟

وہ اپنے بچوں کو اسکول بھیجتے ہیں تو تحفظ چاہتے ہیں، اسپتال جاتے ہیں تو عزت اور علاج چاہتے ہیں، سڑک پر نکلتے ہیں تو جان و مال کا تحفظ چاہتے ہیں۔ یہ کوئی غیر معمولی مطالبات نہیں، بلکہ ایک ریاست کے بنیادی فرائض ہیں۔

اور اگر ریاست اپنے شہریوں کے جان، مال اور عزت کے تحفظ میں ناکام ہوتی رہے تو عوام کا نظامِ انصاف پر اعتماد کیسے قائم رہے گا؟

یہ کہنا آسان ہے کہ پاکستان ہمارا پیارا وطن ہے، لیکن وطن سے محبت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اس کی خامیوں پر خاموش نہ رہا جائے۔

یہ پاکستان ہے، اسے ناپاک ستان بننے سے روکنا ہوگا۔

بچوں کے خلاف جنسی جرائم پر صرف مذمت کافی نہیں؛ شفاف تفتیش، فوری اور منصفانہ ٹرائل، مجرم ثابت ہونے پر قانون کے مطابق سخت سزا، اور اسکولوں میں بچوں کا مؤثر تحفظ ضروری ہے۔

یہ صرف ایک بچی کا معاملہ نہیں۔
یہ ہر والدین کے خوف کا معاملہ ہے۔
یہ ہر بچے کے محفوظ مستقبل کا معاملہ ہے۔
اور سب سے بڑھ کر، یہ ریاست اور معاشرے کے اجتماعی ضمیر کا امتحان ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا