نیپال کے ضلع نواکوٹ میں تریشولی بازار کے قریب بنائی گئی یہ مناظر کی ویڈیو ایک ایسی قدرتی تباہی کی عکاسی کر رہی ہے جس نے چند ہی لمحوں میں معمول کی زندگی کو خوف اور تباہی میں بدل دیا۔
26 اگست کو نیپال اور چین کے تبت کے درمیان ہمالیائی سرحدی علاقے میں اچانک ایک انتہائی طاقتور سیلابی ریلا آیا۔ ابتدا میں اطلاعات میں اسے زلزلے یا لینڈ سلائیڈنگ سے جوڑا گیا، تاہم بعد کی تحقیقات میں بتایا گیا کہ ہمالیہ کے بلند علاقے میں گلیشیئر کا ایک بڑا حصہ ٹوٹ کر نیچے گرا، جس کے نتیجے میں برف، چٹانوں اور مٹی کا ایک بہت بڑا تودہ دریا میں جا گرا۔ اس کے بعد پانی اور ملبے کا خوفناک ریلا نیچے کی جانب بہتا چلا گیا۔
یہ سیلاب پہلے لَہینڈے کھولا اور دریائے بھوٹے کوشی کے نظام میں داخل ہوا، جہاں سے پانی آگے بڑھتے ہوئے دریائے تریشولی میں شامل ہو گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے دریا کی سطح کئی میٹر بلند ہوگئی اور پانی نے اپنے راستے میں آنے والی سڑکوں، پلوں، گھروں، گاڑیوں اور دیگر تنصیبات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
ویڈیو میں تریشولی بازار کے قریب مٹیالے اور انتہائی تیز رفتار پانی کو دیکھا جا سکتا ہے جو پلوں اور آبادی کے قریب سے گزر رہا ہے۔ کئی مقامات پر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دریا نے اپنی حدود ہی چھوڑ دی ہوں۔
اس تباہی کا سب سے زیادہ اثر نیپال کے ضلع رسووا پر پڑا، جبکہ نواکوٹ، دھادنگ اور دیگر زیریں علاقوں تک بھی سیلابی ریلے نے تباہی مچائی۔ متعدد پل، سڑکیں، مکانات اور پن بجلی کے منصوبے متاثر ہوئے، جبکہ کئی علاقوں میں بجلی اور مواصلاتی نظام بھی شدید متاثر ہوا۔ رپورٹس کے مطابق تقریباً 40 کلومیٹر سڑکیں اور کم از کم 19 پل بہہ گئے۔
سب سے افسوسناک صورتحال انسانی جانوں کے ضیاع کی ہے۔ 26 اگست کی ابتدائی اطلاعات میں کم از کم 95 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی تھی، لیکن 27 اگست تک سامنے آنے والی رپورٹس میں نیپال اور تبت کو ملا کر ہلاکتوں کی تعداد 160 سے 165 تک پہنچ چکی ہے۔ سیکڑوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں، اس لیے جانی نقصان میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس سانحے میں مقامی آبادی کے ساتھ غیر ملکی سیاح اور زائرین بھی متاثر ہوئے ہیں۔ نیپالی حکام کے مطابق سینکڑوں غیر ملکی شہری لاپتہ ہیں، جن میں بھارت، امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور دیگر ممالک کے شہری شامل ہیں۔ بہت سے افراد ماؤنٹ کیلاش اور قریبی سیاحتی و مذہبی مقامات کی جانب سفر کر رہے تھے۔
ریسکیو ٹیمیں، پولیس اور فوج متاثرہ علاقوں میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں، لیکن کئی علاقوں تک پہنچنا انتہائی مشکل ہے۔ بلند پانی، کیچڑ، تباہ شدہ سڑکیں اور منقطع مواصلاتی رابطے امدادی سرگرمیوں میں بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔ بعض مقامات پر ہیلی کاپٹروں کے لیے اترنا بھی ممکن نہیں ہو پا رہا۔
یہ صرف ایک سیلاب نہیں بلکہ ہمالیہ کے ایک بڑے قدرتی نظام کے اچانک ٹوٹنے سے پیدا ہونے والی تباہی ہے، جس نے چند لمحوں میں بستیاں، سڑکیں، پل اور لوگوں کی زندگیاں بدل کر رکھ دیں۔
دریائے تریشولی کے کنارے رہنے والے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے اور حکام نے دریا کے اطراف رہنے والے شہریوں کو مزید خطرے کے پیش نظر محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔
نیپال میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، لیکن ملبے کے نیچے کتنی زندگیاں دبی ہیں اور کتنے لوگ اب بھی لاپتہ ہیں، اس کی مکمل تصویر پانی اترنے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔
