سڈنی: مصنوعی ذہانت کے ذریعے موسیقی بنانے کا رجحان دنیا بھر میں تیزی سے بڑھ رہا ہے، لیکن آسٹریلیا نے میوزک انڈسٹری میں انسانی تخلیق کو ترجیح دینے کے لیے ایک اہم قدم اٹھا لیا ہے۔
آسٹریلین ریکارڈنگ انڈسٹری ایسوسی ایشن ARIA نے اعلان کیا ہے کہ مکمل طور پر جنریٹو AI کے ذریعے تیار کیے گئے گانے اب ملک کے سرکاری میوزک چارٹس میں جگہ بنانے کے اہل نہیں ہوں گے۔ نئی پالیسی 31 اگست 2026 کے ARIA چارٹ سے نافذ ہوگی۔
تاہم اس فیصلے کا مطلب یہ نہیں کہ موسیقی میں AI کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اگر کوئی فنکار AI کو صرف ایک معاون ٹول کے طور پر استعمال کرتا ہے، جبکہ گانے کی بنیادی تخلیقی ذمہ داری انسان کی ہو، تو ایسا گانا چارٹ میں شامل ہوسکتا ہے۔
ARIA کے مطابق کسی AI سے متعلق ریکارڈنگ کے اہل ہونے کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ “substantially human made” یعنی بنیادی طور پر انسانی تخلیق ہو، قانونی تقاضوں پر پورا اترتی ہو اور اس میں اسٹریمنگ یا چارٹ کو مصنوعی طریقے سے اوپر لے جانے کے خدشات نہ ہوں۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب AI سے تیار یا AI کی مدد سے بنائی گئی موسیقی تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ حالیہ تنازع ایک ایسے گانے کے گرد بھی گھوما جس نے آسٹریلیا میں نمایاں مقبولیت حاصل کی۔ DJ اور پروڈیوسر Josh Fawaz کی جانب سے میڈونا کے مشہور گانے “Like a Prayer” کے کور میں AI کے استعمال پر سوالات اٹھے۔ بعد میں ٹریک کی تفصیلات میں AI سے تیار کیے گئے vocals اور drums کے استعمال کی وضاحت کی گئی۔ یہ گانا ARIA کے آسٹریلین آرٹسٹ سنگلز چارٹ میں حالیہ ہفتے نمبر 4 پر موجود تھا۔
ARIA کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ گانے میں AI استعمال ہوا یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ تخلیقی کام کا بنیادی حصہ کس نے کیا؟ یعنی انسان نے یا مصنوعی ذہانت نے۔
نئی پالیسی کے تحت اگر کوئی ریکارڈنگ قواعد کی خلاف ورزی کرتی پائی گئی تو ARIA اسے چارٹ میں شامل کرنے سے انکار کرسکتی ہے، پہلے سے موجود گانے کو چارٹ سے نکال سکتی ہے، پوزیشن تبدیل کرسکتی ہے یا متعلقہ ARIA ایوارڈ واپس لے سکتی ہے۔ فنکاروں اور ان کے نمائندوں کو فیصلے کے خلاف اپیل اور اپنی ریکارڈنگ کی انسانی تخلیق ثابت کرنے کا موقع بھی دیا جائے گا۔
یہ فیصلہ دراصل ایک بڑے سوال کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے: اگر مستقبل میں ایک گانا آواز، دھن، بول اور ساز سمیت مکمل طور پر AI بنا دے تو کیا اسے انسانی فنکار کے برابر سمجھا جانا چاہیے؟
آسٹریلیا کا موجودہ جواب واضح ہے: AI موسیقی بنانے میں مدد کر سکتی ہے، لیکن سرکاری میوزک چارٹس میں جگہ کے لیے انسانی تخلیق کا بنیادی کردار برقرار رہنا چاہیے۔
ARIA کا کہنا ہے کہ موسیقی کی دنیا میں AI ایک تیزی سے بدلتی ہوئی حقیقت ہے، اس لیے قواعد بھی وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے رہیں گے۔ تاہم ادارہ اس بات پر زور دے رہا ہے کہ چارٹس انسانی فن اور حقیقی تخلیقی صلاحیت کی نمائندگی کرتے رہیں۔
یعنی آنے والے دنوں میں شاید صرف یہ سوال اہم نہیں ہوگا کہ گانا کتنا مقبول ہے، بلکہ یہ بھی پوچھا جائے گا کہ اسے بنایا کس نے—انسان نے یا مشین نے؟
