ڈرائیونگ لائسنس مہنگا تو قانون پر عمل مشکل؟ پنجاب اور سندھ کی فیس میں بڑا فرق

0
2

ڈرائیونگ لائسنس قانوناً گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے کے لیے ایک بنیادی ضرورت ہے، لیکن جب اس کی فیس عام شہری کی آمدن کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوجائے تو ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا مہنگا لائسنس لوگوں کو قانون پر عمل کرنے کی ترغیب دے گا یا اس کے برعکس انہیں مزید مشکلات میں ڈالے گا؟

سندھ اور پنجاب کی ڈرائیونگ لائسنس فیس کے ایک تقابلی جائزے میں دونوں صوبوں کے درمیان نمایاں فرق سامنے آتا ہے۔ سندھ پولیس کے دستیاب فیس شیڈول کے مطابق موٹر سائیکل کے 3 سالہ مستقل لائسنس کی فیس 510 روپے جبکہ 5 سالہ لائسنس کی فیس 660 روپے ہے۔ کار کے لیے یہی فیس بالترتیب 960 اور 1260 روپے ہے۔

دوسری جانب تصویر میں پنجاب کی 17 جنوری 2024 سے نافذ فیسوں کا تقابل دکھایا گیا ہے، جس میں پانچ سالہ موٹر سائیکل لائسنس کی فیس 4 ہزار 900 روپے اور کار یا جیپ کے لیے 11 ہزار 400 روپے درج ہے۔

اس فرق نے ایک اہم بحث کو جنم دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر حکومت کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ڈرائیونگ قوانین کا پابند بنانا ہے تو لائسنس کی قیمت ایسی ہونی چاہیے جو عام شہری آسانی سے ادا کرسکے۔

خاص طور پر موٹر سائیکل سوار، رکشہ ڈرائیور، ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے افراد اور دیگر پیشہ ور ڈرائیور اپنی روزمرہ آمدن سے گھر کے اخراجات پورے کرتے ہیں۔ ایسے افراد کے لیے لائسنس کی بھاری فیس ایک اضافی مالی بوجھ بن سکتی ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ پنجاب ٹریفک پولیس ڈرائیونگ لائسنس کو روڈ سیفٹی اور قانون کی پابندی سے جوڑتی ہے، جبکہ اس کے نظام میں لائسنس کے اجرا، ٹیسٹ اور تجدید کے عمل کو باقاعدہ بنانے کے لیے ڈیجیٹل نظام بھی موجود ہے۔

دوسری طرف سندھ کا ڈرائیونگ لائسنس نظام بھی ٹیسٹ، میڈیکل اور دیگر مراحل کے ذریعے اہل ڈرائیوروں کو لائسنس جاری کرنے کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔

اصل بحث صرف یہ نہیں کہ فیس کتنی ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا لائسنسنگ پالیسی کا بنیادی مقصد سڑکوں پر محفوظ اور قانون پسند ڈرائیور پیدا کرنا ہے یا حکومتی آمدن میں اضافہ؟

اگر فیس اتنی زیادہ ہوجائے کہ عام شہری قانونی دستاویز حاصل کرنے سے گریز کرے تو اس کا اثر ٹریفک قوانین کی مجموعی پابندی پر بھی پڑ سکتا ہے۔

اسی لیے پالیسی ماہرین اور شہریوں کے لیے غور طلب سوال یہ ہے کہ ڈرائیونگ لائسنس کی فیس ریونیو کا ذریعہ ہونی چاہیے یا قانون پر عمل درآمد کا آسان راستہ؟

اور اگر کم فیس رکھنے سے زیادہ لوگ قانونی طور پر لائسنس حاصل کرتے ہیں، تو شاید حکومت کے لیے مجموعی طور پر یہی پالیسی زیادہ مؤثر ثابت ہو۔

آپ کے خیال میں ڈرائیونگ لائسنس کی فیس کم ہونی چاہیے تاکہ ہر شہری آسانی سے قانون پر عمل کرسکے، یا موجودہ فیس مناسب ہے؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا