قومی اسمبلی نے جمعرات کو نیشنل کمانڈ اتھارٹی (ترمیمی) بل 2026ء اور پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026ء کثرتِ رائے سے منظور کر لیے۔ اپوزیشن نے بلوں کی منظوری کے طریقہ کار پر احتجاج کرتے ہوئے اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف بھی اجلاس میں موجود تھے۔ ایوان آمد پر انہوں نے اپوزیشن رہنماؤں محمود خان اچکزئی، بیرسٹر گوہر، اسد قیصر اور عامر ڈوگر سے ملاقات اور مصافحہ کیا۔
نئی قانون سازی کے تحت پاکستان کے دفاعی اور عسکری کمانڈ سسٹم میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن کا مقصد بری، بحری اور فضائی افواج کے درمیان بہتر رابطہ اور مشترکہ آپریشنل صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔
27ویں آئینی ترمیم کے بعد چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) کا عہدہ مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ انہیں تینوں مسلح افواج کی آپریشنل کمانڈ اور کنٹرول کی ذمہ داری دی گئی ہے جبکہ وہ ان امور پر وفاقی حکومت کو جوابدہ ہوں گے۔
نئے نظام میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کرکے کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کا منصب قائم کیا گیا ہے۔ وزیراعظم اس عہدے پر فور اسٹار جنرل کو تین سال کے لیے تعینات کر سکیں گے، جبکہ مزید تین سال کی توسیع بھی ممکن ہوگی۔
قانون کے تحت ایک مرکزی دفاعی افواج ہیڈکوارٹر بھی قائم کیا جائے گا، جو چیف آف ڈیفنس فورسز کے ماتحت ہوگا اور قومی سلامتی و دفاعی معاملات میں وزیراعظم کو اعلیٰ عسکری مشاورت فراہم کرے گا۔
نئے قانون میں چیف آف ڈیفنس فورسز کو افسران اور اہلکاروں کی تعیناتی، ریٹائرمنٹ اور دیگر انتظامی معاملات سے متعلق وسیع اختیارات بھی دیے گئے ہیں۔
حکومت کے مطابق یہ قانون سازی ملک کے دفاعی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور تینوں افواج کے درمیان مشترکہ کمانڈ و آپریشنز کو مؤثر بنانے کی جانب اہم قدم ہے۔
