یورپ کا تعلیمی نظام اسکرین سے کتاب کی طرف واپس کیوں جا رہا ہے؟

0
2

دنیا کے جدید ترین تعلیمی نظاموں میں شمار ہونے والے یورپی ممالک میں اب تعلیم کے بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل استعمال پر دوبارہ غور شروع ہوگیا ہے۔ خاص طور پر سویڈن نے کم عمر بچوں کی تعلیم میں اسکرین کے استعمال کو محدود کرتے ہوئے کتاب، کاغذ اور ہاتھ سے لکھنے کو دوبارہ اہمیت دینا شروع کر دی ہے۔ سویڈش حکومت کا کہنا ہے کہ ابتدائی جماعتوں میں بنیادی توجہ پڑھنے، لکھنے اور حساب پر ہونی چاہیے، جبکہ ڈیجیٹل آلات صرف اسی عمر میں استعمال کیے جائیں جہاں وہ واقعی سیکھنے میں مدد دیں۔

سویڈن نے 2023 سے فزیکل کتابوں کے لیے بڑی سرکاری سرمایہ کاری شروع کی اور 2026 کے لیے بھی کتابوں اور تدریسی مواد کی خریداری کے لیے مزید فنڈز مختص کیے ہیں۔ حکومت نے یہ مؤقف بھی اپنایا ہے کہ کاغذ اور قلم پر مبنی ماحول بچوں کی توجہ، پڑھنے اور لکھنے کی بنیادی صلاحیتوں کے لیے زیادہ موزوں ہوسکتا ہے۔

یہ رجحان صرف سویڈن تک محدود نہیں۔ ڈنمارک میں 2025 کے ایک بڑے مشاہداتی مطالعے میں 8,170 کلاس روم مشاہدات کے ذریعے اسکولوں میں اسکرین کے استعمال کا جائزہ لیا گیا۔ وہاں بھی حکومت نے ڈیجیٹل اور روایتی تعلیمی ذرائع کے درمیان بہتر توازن اور زیادہ فزیکل کتابوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

فرانس نے بھی 2025 سے اسکولوں اور کالجوں میں موبائل فون کو الگ رکھنے کا نظام وسیع کیا، جبکہ 2026 سے یہ پابندی ہائی اسکولوں تک بھی بڑھائی جا رہی ہے۔ فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ ضرورت سے زیادہ اسکرین استعمال توجہ، صحت اور سماجی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے۔

اٹلی میں بھی 2025 سے اسکول کے اوقات میں طلبہ کے اسمارٹ فون استعمال پر پابندی کو مزید وسعت دی گئی، حتیٰ کہ بعض سطحوں پر تدریسی مقصد کے لیے بھی ذاتی موبائل فون کے استعمال کو روکنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔

تاہم اصل بات یہ ہے کہ یہ ممالک ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر ختم نہیں کر رہے بلکہ اسے زیادہ محتاط اور مقصد کے مطابق استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ڈنمارک کی موجودہ پالیسی بھی اسکرین کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے مناسب مواقع پر ڈیجیٹل اور اینالاگ تعلیم میں توازن کی سفارش کرتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سویڈن کے بارے میں ایک علمی تحقیق نے بھی اس بحث کا جائزہ لیا، تاہم تحقیق نے یہ ثابت نہیں کیا کہ ہر صورت میں کاغذی کتاب ڈیجیٹل کتاب سے بہتر ہے؛ بعض حالات میں اچھی طرح تیار کردہ ڈیجیٹل کتابیں بھی بہتر نتائج دے سکتی ہیں۔ اصل مسئلہ ٹیکنالوجی کا وجود نہیں بلکہ اس کا مناسب، عمر کے مطابق اور بامقصد استعمال ہے۔

یوں یورپ سے آنے والا پیغام یہ نہیں کہ مستقبل میں تعلیم دوبارہ مکمل طور پر پرانی طرز پر چلی جائے گی، بلکہ یہ ہے کہ ہر چیز کو ڈیجیٹل بنا دینا لازماً بہتر تعلیم نہیں ہوتا۔ کتاب، قلم، استاد کی براہِ راست رہنمائی، توجہ اور گہری مطالعہ کی عادت اب بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

اور شاید سب سے اہم سوال پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہی ہے: جب ترقی یافتہ تعلیمی نظام ضرورت سے زیادہ اسکرین کے نقصانات پر غور کرکے کتاب اور قلم کی طرف دوبارہ توجہ دے رہے ہیں، تو ہمیں ٹیکنالوجی اپنانے کے ساتھ یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ہم بچوں کو صرف اسکرین دے رہے ہیں یا واقعی بہتر تعلیم بھی؟

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا