پاکستان کی سیاست میں سابق وزیراعظم اور بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے معاملے نے ایک مرتبہ پھر نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ سپریم کورٹ نے 18 اگست 2026 کو عمران خان کو علاج اور طبی معائنے کے لیے اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور عمران خان کے ذاتی معالج کو بھی اس عمل میں شامل کرنے کی ہدایت کی، جبکہ ان کے اہل خانہ سے ہفتہ وار ملاقات اور بیٹوں سے ٹیلی فون پر رابطے کی اجازت بھی دی گئی۔ عدالت کی جانب سے دیا گیا یہ ریلیف عمران خان کی صحت سے متعلق طویل عرصے سے جاری قانونی اور سیاسی تنازع کے بعد سامنے آیا ہے۔
لیکن اس عدالتی حکم کے فوراً بعد سیاسی بحث ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کر گئی۔ حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق حکومت اس فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کرے گی اور ان کا مؤقف ہے کہ قیدیوں کے علاج کے لیے سرکاری ہسپتال یا جیل کے طبی انتظامات استعمال ہونے چاہئیں۔ دوسری جانب تحریک انصاف نے عدالتی حکم کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے عمران خان کے بنیادی طبی حقوق کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
یہاں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک قیدی، خصوصاً سابق وزیراعظم، کی صحت کے بارے میں مسلسل خدشات موجود ہوں اور عدالت طبی ماہرین کی نگرانی میں علاج کا حکم دے تو کیا اس فیصلے کو محض سیاسی عینک سے دیکھا جانا چاہیے؟ حکومت کا قانونی مؤقف اپنی جگہ، لیکن انسانی حقوق کے نقطۂ نظر سے کسی بھی قیدی کو مناسب اور بروقت طبی سہولت فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ عمران خان کے معاملے میں ان کے اہل خانہ اور پارٹی طویل عرصے سے طبی سہولیات اور ملاقاتوں کے حوالے سے شکایات کرتے رہے ہیں، جبکہ حالیہ عدالتی کارروائی میں صحت، علاج، خاندان سے ملاقات اور وکلا تک رسائی سمیت متعدد معاملات زیر بحث آئے۔
عمران خان کی صحت کے معاملے کو سمجھنے کے لیے گزشتہ چار سال کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالنا بھی ضروری ہے۔ اپریل 2022 میں قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی اور عمران خان وزارت عظمیٰ سے محروم ہوگئے۔ 174 ارکان نے تحریک عدم اعتماد کے حق میں ووٹ دیا، جس کے بعد شہباز شریف وزیراعظم منتخب ہوئے۔ یہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ تھا کہ کوئی وزیراعظم عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے عہدے سے ہٹایا گیا۔
عمران خان اور تحریک انصاف نے اس سیاسی تبدیلی کو محض ایک پارلیمانی عمل نہیں سمجھا بلکہ اسے ایک مبینہ سازش اور حکومت کی تبدیلی کے منصوبے سے تعبیر کیا۔ دوسری جانب ان کے مخالفین نے ان الزامات کو مسترد کیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس نے بھی اس عرصے کے سیاسی ماحول، آزادی اظہار، سیاسی دباؤ اور انتخابی میدان میں برابری کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا۔
اس کے بعد فروری 2024 کے عام انتخابات آئے، لیکن انتخابات سے قبل تحریک انصاف کو شدید سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پارٹی کا انتخابی نشان، کرکٹ بیٹ، واپس لے لیا گیا، جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی کے امیدوار آزاد حیثیت سے مختلف انتخابی نشانات پر میدان میں اترے۔ ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ پی ٹی آئی کے انتخابی نشان پر پابندی، کارکنوں کی گرفتاریوں اور مبینہ ہراسانی نے انتخابی میدان کو غیر مساوی بنایا۔
مئی 2023 میں عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں شدید احتجاج ہوا۔ اس دوران سرکاری عمارتوں اور فوجی تنصیبات پر حملے بھی ہوئے، جن کی ریاستی سطح پر شدید مذمت کی گئی۔ اس کے بعد تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوئیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کی انسانی حقوق سے متعلق رپورٹ کے مطابق ہزاروں افراد گرفتار ہوئے اور پی ٹی آئی کی قیادت کا ایک بڑا حصہ جیلوں میں رہا۔
اس تمام دباؤ کے باوجود فروری 2024 کے انتخابات میں پی ٹی آئی سے وابستہ آزاد امیدواروں نے براہ راست منتخب ہونے والی قومی اسمبلی کی نشستوں میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں۔ برطانوی ہاؤس آف کامنز کی لائبریری نے بھی اپنی انتخابی بریفنگ میں تصدیق کی کہ پی ٹی آئی سے وابستہ آزاد امیدوار براہ راست منتخب نشستوں میں سب سے بڑی تعداد حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ تاہم پارٹی کے پاس سرکاری انتخابی نشان اور جماعتی حیثیت سے متعلق رکاوٹوں کے باعث وہ حکومت بنانے کی پوزیشن حاصل نہ کر سکی اور بالآخر موجودہ حکومتی اتحاد اقتدار میں آیا۔
یہیں سے پاکستانی سیاست میں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: اگر عوامی حمایت کا ایک بڑا حصہ کسی سیاسی جماعت کے ساتھ موجود ہو تو کیا سیاسی نظام اس حمایت کو پارلیمانی اقتدار میں تبدیل کرنے کے لیے مکمل طور پر شفاف اور غیر جانب دار ہونا چاہیے؟ تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ اسے انتخابی عمل، انتخابی نشان، امیدواروں اور نتائج کے حوالے سے مسلسل نشانہ بنایا گیا، جبکہ حکومت اور اس کے اتحادی ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے 2024 کے انتخابات کے حوالے سے آزادی اظہار، سیاسی اجتماعات اور پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاریوں سمیت متعدد معاملات پر تشویش ظاہر کی تھی۔
اب چار سال کے سیاسی بحران کے بعد معاملہ دوبارہ ایک بنیادی انسانی سوال پر آ کھڑا ہوا ہے: کیا سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن ایک قیدی کو علاج کا حق بھی سیاسی تنازع بنا دینا چاہیے؟
عمران خان گزشتہ اگست سے اڈیالہ جیل میں ہیں اور ان کی قانونی ٹیم مسلسل طبی سہولیات کے بارے میں عدالتوں سے رجوع کرتی رہی ہے۔ اب سپریم کورٹ نے نہ صرف انہیں ہسپتال منتقل کرنے بلکہ ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈ کے ذریعے ان کا معائنہ کرانے کا حکم دیا ہے۔ عدالت کا حکم کسی سیاسی جماعت کی سفارش نہیں بلکہ عدالتی کارروائی کا نتیجہ ہے، اور اسی لیے اس فیصلے پر حکومت کی طرف سے نظرثانی یا چیلنج کا اقدام بھی ایک اہم آئینی و قانونی بحث کو جنم دے رہا ہے۔
اس صورتحال کا سب سے زیادہ قابلِ غور پہلو دوہرے معیار کا وہ تاثر ہے جس کی نشاندہی عمران خان کے حامی کرتے ہیں۔ پاکستان کی سیاست میں ماضی میں بڑے سیاسی رہنماؤں کو بیماری کی بنیاد پر بیرون ملک علاج کی اجازت ملتی رہی ہے۔ خود نواز شریف کو 2019 میں علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی تھی اور وہ لندن میں طویل عرصہ زیر علاج رہے۔ 2022 میں بھی نواز شریف لندن میں طبی علاج کے لیے موجود تھے۔
یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ نواز شریف کا بیرون ملک علاج اور عمران خان کا پاکستان کے اندر کسی نجی ہسپتال میں علاج ایک جیسے قانونی معاملات نہیں ہیں؛ ہر کیس کے اپنے عدالتی احکامات اور قانونی حالات ہوتے ہیں۔ تاہم سیاسی بحث میں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ اگر ریاست کسی سیاسی رہنما کے بیرون ملک علاج کو انسانی اور طبی ضرورت سمجھ سکتی ہے تو کسی دوسرے سیاسی رہنما کو ملک کے اندر ہی ماہر ڈاکٹروں سے علاج کی سہولت دینے پر اتنا شدید سیاسی ردعمل کیوں سامنے آنا چاہیے؟
اسی لیے عمران خان کے علاج سے متعلق سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ محض ایک طبی حکم نہیں بلکہ پاکستان کے سیاسی نظام، عدلیہ کے کردار، قیدیوں کے حقوق اور سیاسی انتقام کے الزامات کے درمیان ایک اہم امتحان بن گیا ہے۔ حکومت اگر فیصلے کو قانونی بنیادوں پر چیلنج کرتی ہے تو اسے یہ واضح کرنا ہوگا کہ اعتراض نجی ہسپتال پر ہے، قانونی طریقہ کار پر ہے یا عمران خان کو دی جانے والی مخصوص سہولت پر۔ دوسری جانب تحریک انصاف کو بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس معاملے کو سیاسی احتجاج کے بجائے قانونی اور انسانی حقوق کے دائرے میں کیسے مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
پاکستان پہلے ہی سیاسی عدم استحکام، ادارہ جاتی کشمکش اور جمہوری ساکھ کے حوالے سے عالمی سطح پر سوالات کا سامنا کر چکا ہے۔ ایسے ماحول میں ایک سابق وزیراعظم کے علاج جیسے بنیادی انسانی معاملے کو سیاسی لڑائی کا نیا میدان بنانا ملک کے لیے کسی صورت مفید نہیں۔ دنیا بھر میں انسانی حقوق کے ادارے پاکستان میں سیاسی آزادیوں، گرفتاریوں، اظہارِ رائے اور انتخابی عمل سے متعلق سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔
بالآخر اصل امتحان عمران خان یا کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ ریاست کے اصولوں کا ہے۔ اگر عدالت کسی قیدی کے علاج کو ضروری قرار دیتی ہے تو اس حکم پر عمل درآمد قانون کی حکمرانی کے اصول کے مطابق ہونا چاہیے۔ اگر حکومت کو فیصلے پر قانونی اعتراض ہے تو اس کا جواب بھی عدالت میں دلیل، قانون اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے دیا جانا چاہیے، نہ کہ سیاسی بیانات اور الزام تراشی کے ذریعے۔
پاکستان کی سیاست گزشتہ چار سال میں حکومت کی تبدیلی، گرفتاریوں، احتجاجوں، انتخابی تنازعات اور عدالتی مقدمات سے گزر چکی ہے۔ اب عمران خان کی صحت کا معاملہ اس طویل سیاسی بحران کا ایک اور امتحان بن چکا ہے۔ یہ امتحان اس بات کا بھی ہے کہ کیا پاکستان میں سیاسی اختلاف رکھنے والے شخص کے لیے بھی وہی انسانی اور قانونی معیار برقرار رہ سکتا ہے جو ریاست ہر شہری کے لیے مقرر کرتی ہے۔ اگر اس سوال کا جواب قانون اور آئین کے مطابق دیا جائے تو شاید یہی بحران پاکستان کے جمہوری نظام کے لیے ایک اہم سبق ثابت ہو سکتا ہے۔
