راولپنڈی، اسلام آباد: راولپنڈی اور اسلام آباد میں گزشتہ رات سے جاری موسلادھار اور وقفے وقفے سے ہونے والی بارش نے جڑواں شہروں میں شہری سیلاب کا خطرہ بڑھا دیا ہے، جبکہ نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہونے کے بعد انتظامیہ کی جانب سے خطرے کے سائرن بجا دیے گئے ہیں۔ تازہ صورتحال کے مطابق کٹاریاں کے مقام پر نالہ لئی میں پانی کی سطح 22 فٹ سے تجاوز کر گئی، جس کے باعث نالے کے اطراف اور نشیبی آبادیوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
بارش کے تازہ سلسلے کے دوران جڑواں شہروں کے مختلف علاقوں میں نمایاں مقدار میں بارش ریکارڈ کی گئی۔ دستیاب تازہ اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد کے سیدپور میں 66 ملی میٹر، گولڑہ میں 52 ملی میٹر، بوکرہ میں 65 ملی میٹر جبکہ راولپنڈی کے پیرودھائی میں 63 ملی میٹر، چکلالہ میں 47 ملی میٹر اور شمس آباد میں 50 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ اس سے قبل پیرودھائی میں 107 ملی میٹر، گوالمنڈی میں 80 ملی میٹر، نیو کٹاریاں میں 76 ملی میٹر اور کچہری کے علاقے میں 64 ملی میٹر بارش بھی ریکارڈ کی جا چکی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلسل بارش نے شہری نکاسی آب کے نظام پر غیر معمولی دباؤ ڈال دیا ہے۔
شدید بارش کے نتیجے میں راولپنڈی کے متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور بعض مقامات پر گھروں اور سڑکوں میں داخل ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ نالہ لئی کے قریب آبادیوں کے لیے خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔ گوالمنڈی اور کٹاریاں سمیت نالے کے اطراف رہائش پذیر شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے اور محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ انتظامیہ اور ریسکیو اداروں نے صورتحال پر نظر رکھتے ہوئے احتیاطی اقدامات تیز کر دیے ہیں جبکہ نالہ لئی کے پانی میں اضافے کے باعث خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔
دوسری جانب واسا اور متعلقہ انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور حساس مقامات پر عملہ، مشینری اور امدادی ٹیمیں تعینات رکھنے کی اطلاعات ہیں تاکہ پانی کی نکاسی میں کسی بھی رکاوٹ کو فوری طور پر دور کیا جا سکے۔ ریسکیو حکام نے شہریوں کو نالہ لئی، برساتی نالوں، کھلے مین ہولز اور پانی سے بھری سڑکوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے، جبکہ بچوں کو خصوصاً کھلے نالوں اور بجلی کے کھمبوں کے قریب نہ جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات نے بھی جڑواں شہروں میں مزید بارش اور گرج چمک کے امکانات کے پیش نظر احتیاط کی ہدایت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ شدید بارش کی صورت میں نشیبی علاقوں، مقامی نالوں اور نالہ لئی کے اطراف اچانک طغیانی یا شہری سیلاب پیدا ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال میں صرف موجودہ پانی کی سطح ہی نہیں بلکہ آنے والے گھنٹوں کے دوران ہونے والی مزید بارش بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ مسلسل بارش کی صورت میں نالہ لئی اور دیگر برساتی نالوں میں پانی کی سطح دوبارہ تیزی سے بلند ہو سکتی ہے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق بارش میں عارضی وقفہ آنے پر بعض مقامات پر نالہ لئی کی سطح میں کمی بھی دیکھی گئی، تاہم حکام کے مطابق خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا کیونکہ جڑواں شہروں میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نشیبی علاقوں کے مکینوں کو صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے اور انتظامیہ یا ریسکیو اداروں کی جانب سے انخلا کی ہدایت کی صورت میں فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی تاکید کی گئی ہے۔
موجودہ صورتحال میں راولپنڈی اور اسلام آباد میں شہریوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ نالہ لئی کے علاوہ وہ مقامی برساتی نالے اور نشیبی مقامات ہیں جہاں مختصر وقت میں زیادہ مقدار میں پانی جمع ہو سکتا ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، زیر آب سڑکوں پر گاڑی چلانے سے احتیاط کریں اور خصوصاً ایسے راستوں کا انتخاب نہ کریں جہاں پانی کی گہرائی کا اندازہ نہ ہو۔ ماہرین کے مطابق شہری سیلاب کے دوران چند منٹوں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے، اس لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا کسی بھی بڑے نقصان سے بچنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
جڑواں شہروں میں حالیہ بارشوں نے ایک مرتبہ پھر نکاسی آب کے نظام کی استعداد، نالہ لئی کے اطراف آبادیوں کی حساسیت اور شہری سیلاب سے نمٹنے کے انتظامات کو نمایاں کر دیا ہے۔ فی الحال انتظامیہ کی توجہ نالہ لئی اور دیگر برساتی نالوں کی پانی کی سطح پر مسلسل نگرانی، نشیبی علاقوں میں ممکنہ انخلا، سڑکوں سے پانی کی نکاسی اور شہریوں کو بروقت خبردار کرنے پر مرکوز ہے۔ صورتحال آئندہ چند گھنٹوں میں ہونے والی بارش اور نالہ لئی کے پانی کی سطح میں اضافے یا کمی پر منحصر ہے، تاہم موجودہ حالات میں جڑواں شہروں کے نشیبی علاقوں کے لیے سیلابی خطرہ برقرار ہے اور شہریوں کو غیر معمولی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔
