اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اسلام آباد ایئرپورٹ پر غیر ملکی مسافروں کی مبینہ غیر قانونی امیگریشن کلیئرنس اور رشوت ستانی کے معاملے میں کارروائی کرتے ہوئے ایک امیگریشن اہلکار اور اسلام آباد پولیس کے ایس پی یو اہلکار سمیت متعدد افراد کو گرفتار کرلیا۔
ایف آئی اے کے مطابق کارروائی ایک چینی شہری کی نشاندہی پر کی گئی، جس کے بعد غوری ٹاؤن اسلام آباد میں چھاپہ مارا گیا۔ کارروائی کے دوران امیگریشن اینڈ پاسپورٹ آفس کے اہلکار جنید مغل کو گرفتار کیا گیا۔
حکام کے مطابق جنید مغل کے موبائل فون سے مبینہ طور پر واٹس ایپ چیٹس اور ادائیگیوں سے متعلق شواہد ملے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں الزام سامنے آیا کہ غیر ملکی شہریوں کی امیگریشن کلیئرنس میں مبینہ سہولت کاری کے عوض فی مسافر تقریباً 80 ہزار روپے وصول کیے جاتے تھے۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران ایک گاڑی کے ٹرنک میں موجود بلیک سوٹ کیس سے مبینہ طور پر 2 کروڑ روپے نقد برآمد ہوئے۔ رقم قبضے میں لے کر باقاعدہ سیزر میمو کے ذریعے تحویل میں لے لی گئی۔
تحقیقاتی ادارے کے مطابق جنید مغل نے چینی شہری سے مبینہ طور پر رشوت وصول کرنے کا اعتراف بھی کیا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب ایف آئی اے نے اسلام آباد پولیس کے ایس پی یو اہلکار ظفر اقبال کو بھی گرفتار کرلیا۔ حکام کے مطابق اس کے موبائل فون سے پاسپورٹس، ویزوں اور امیگریشن کلیئرنس سے متعلق مبینہ چیٹس برآمد ہوئی ہیں۔
ایف آئی اے ترجمان کے مطابق مختلف پروازوں کے ذریعے آنے والے غیر ملکی مسافروں کی مبینہ سہولت کاری کا ریکارڈ بھی سامنے آیا ہے۔
ایف آئی اے نے چینی شہری سمیت 3 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 109، 161 اور 419 جبکہ پریوینشن آف کرپشن ایکٹ 1947 کی دفعہ 5(2) کے تحت درج کیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران دیگر ایس پی یو، امیگریشن، این سی سی آئی اے اہلکاروں اور نجی افراد کے ممکنہ کردار کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے مقدمے کی تفتیش شروع کردی ہے اور حکام کے مطابق تحقیقات آگے بڑھنے کے ساتھ مزید گرفتاریاں اور اہم انکشافات متوقع ہیں۔
