لاہور میں پولیس اہلکار قتل، عوامی غصے اور پولیس پر سوالات

0
1

لاہور میں پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے پے درپے واقعات نے امن و امان کے ساتھ پولیس اور عوام کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد کے بحران پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بادامی باغ میں سب انسپکٹر عدیل اور ہیڈ کانسٹیبل اسد کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا، جبکہ ملزم ریحان بٹ فرار ہوگیا۔ پولیس کے مطابق ریحان بٹ کا بھائی فیضان کچھ عرصہ قبل مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا، جس کے بعد اس پہلو کو بھی تحقیقات کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔

بادامی باغ واقعے کے بعد یتیم خانہ چوک پر بھی پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں اہلکار حارث شہید اور تین افراد زخمی ہوئے۔ پولیس کے مطابق دونوں واقعات میں مماثلت کے پہلوؤں، استعمال ہونے والے اسلحے اور ممکنہ تعلق کی تحقیقات جاری ہیں۔

سی سی ڈی اور دیگر ادارے فرانزک شواہد اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے تحقیقات کر رہے ہیں۔

ان واقعات نے ایک اہم سوال ضرور کھڑا کردیا ہے کہ پولیس اور شہریوں کے درمیان اعتماد کا رشتہ کیوں کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ شہری طویل عرصے سے پولیس کے مبینہ سخت رویے، تھانوں میں مشکلات اور بعض پولیس مقابلوں پر تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

اگر کسی خاندان کو کسی پولیس کارروائی پر اعتراض یا شکایت ہو تو اس کا حل قانونی اور شفاف تحقیقات ہیں، نہ کہ پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانا۔ اسی طرح پولیس پر بھی لازم ہے کہ شہریوں کی شکایات کو سنجیدگی سے سنا جائے اور ہر مشتبہ پولیس کارروائی کی غیر جانب دارانہ تحقیقات یقینی بنائی جائیں۔

بادامی باغ اور یتیم خانہ چوک واقعات کی تحقیقات میں صرف ملزمان کی گرفتاری نہیں بلکہ ان حالات کا جائزہ بھی ضروری ہے جنہوں نے پولیس اور عوام کے درمیان بداعتمادی کو جنم دیا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا