اسلام آباد: پاکستان کی خلائی تحقیق کے سفر میں ایک اہم اور حوصلہ افزا پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ملک کی پہلی قمری گاڑی کے لیے ’’جناح-ون‘‘ نام منتخب کیا گیا ہے۔ یہ نام بہاول نگر سے تعلق رکھنے والے 17 سالہ طالب علم طیب کریم کی تجویز میں سے منتخب کیے جانے کی اطلاع ہے۔
نام کے انتخاب کے لیے سپارکو نے ملک بھر سے تجاویز طلب کی تھیں اور ہزاروں افراد نے اس قومی مقابلے میں حصہ لیا۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق تقریباً 4 ہزار ناموں میں سے ’’جناح-ون‘‘ کو منتخب کیا گیا، جو بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح سے منسوب ہے اور ملکی خلائی سفر میں قومی شناخت کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان کا یہ قمری روور چین کے Chang’e-8 مشن کے ساتھ چاند کی جانب روانہ ہوگا۔ سپارکو کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق روور کا وزن تقریباً 35 کلوگرام ہوگا اور اسے چاند کے جنوبی قطب کے علاقے میں اتارا جائے گا۔ مشن کا مقصد قمری سطح کا مطالعہ، مٹی کی تحقیق، سطح کی نقشہ سازی اور جدید ٹیکنالوجی کی آزمائش سمیت مختلف سائنسی سرگرمیاں انجام دینا ہے۔
پاکستان اور چین کے درمیان اس منصوبے کے تحت تعاون پہلے ہی طے پا چکا ہے، اور پاکستان کا مقامی طور پر تیار کردہ روور چین کے قمری مشن کا حصہ بنے گا۔ اس شرکت کو پاکستان کے خلائی پروگرام کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے پاکستانی انجینئرز اور سائنس دانوں کو براہِ راست قمری تحقیق کے عالمی منصوبے میں حصہ لینے کا موقع ملے گا۔
سپارکو کے مطابق Chang’e-8 مشن وسیع تر International Lunar Research Station منصوبے سے بھی منسلک ہے، جس میں چاند پر طویل المدتی سائنسی تحقیق اور مستقبل میں انسانی سرگرمیوں کے لیے ٹیکنالوجیز پر کام شامل ہے۔
البتہ ایک اہم وضاحت یہ ہے کہ سپارکو کی موجودہ سرکاری ویب سائٹ اس مشن کا لانچ سال 2028 بتاتی ہے، جبکہ بعض غیر سرکاری یا ثانوی اطلاعات میں 2029 کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس لیے لانچ کی حتمی تاریخ کے لیے تازہ ترین سرکاری اعلان کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
17 سالہ طالب علم کی جانب سے تجویز کردہ نام کا انتخاب اس منصوبے کا ایک خوبصورت پہلو بھی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کا خلائی سفر صرف سائنس دانوں اور اداروں تک محدود نہیں بلکہ نئی نسل بھی اس قومی مشن کا حصہ بننے کی خواہش رکھتی ہے۔
اب نظریں اس تاریخی مرحلے پر ہیں جب ’’جناح-ون‘‘ پاکستانی پرچم اور ملکی خلائی صلاحیت کی نمائندگی کرتے ہوئے چاند کی سطح تک پہنچے گا۔
