🪐 63 نوری سال دور سیارے سے بار بار ریڈیو سگنلز، سائنس دانوں نے پہلی بار سیارے کا مقناطیسی میدان ناپ لیا

0
4

خلاء سے آنے والے پراسرار ریڈیو سگنلز نے ایک بار پھر ماہرینِ فلکیات کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے، لیکن اس مرتبہ معاملہ اس لیے غیر معمولی ہے کہ سائنس دانوں نے پہلی بار ایسے ریڈیو اخراج کو براہِ راست ہمارے نظامِ شمسی سے باہر موجود ایک سیارے سے منسوب کیا ہے۔

یہ سیارہ Beta Pictoris b ہے، جو زمین سے تقریباً 63.4 نوری سال دور واقع Beta Pictoris نامی نسبتاً نوجوان ستارے کے گرد گردش کر رہا ہے۔ اس نظام میں کم از کم تین معلوم سیارے موجود ہیں۔

جنوبی افریقہ میں موجود MeerKAT ریڈیو دوربینوں کے مجموعے کی مدد سے سائنس دانوں نے 2025 اور 2026 کے دوران چار مختلف مشاہداتی مواقع پر اس نظام کا مطالعہ کیا۔ انہیں 0.85 سے 3.5 گیگا ہرٹز کی فریکوئنسی میں انتہائی تیز، بار بار ظاہر ہونے والے اور مضبوطی سے دائرہ نما قطبیت رکھنے والے ریڈیو سگنلز ملے۔ اس کے ساتھ مسلسل ریڈیو اخراج بھی ریکارڈ کیا گیا۔

اس دریافت کا سب سے اہم پہلو صرف سگنل کا ملنا نہیں بلکہ یہ معلوم کرنا تھا کہ سگنل آیا کہاں سے ہے؟ ماضی میں کسی exoplanetary system سے ریڈیو اخراج دریافت ہونے پر یہ واضح نہیں کیا جا سکتا تھا کہ وہ سیارے سے آ رہا ہے یا اس کے مرکزی ستارے سے۔

اس مرتبہ محققین نے انتہائی دور موجود روشن quasars کو آسمانی حوالہ جاتی نقاط کے طور پر استعمال کیا اور ریڈیو اخراج کے مقام کو زیادہ درستگی سے متعین کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سگنل کو Beta Pictoris ستارے کے بجائے Beta Pictoris b سے منسلک کیا جا سکتا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق ان ریڈیو لہروں کی خصوصیات اس بات سے مطابقت رکھتی ہیں کہ یہ auroral radio emission یعنی مقناطیسی میدان سے وابستہ شفقی ریڈیو اخراج ہو سکتا ہے۔ اس عمل کو electron cyclotron maser کہا جاتا ہے، جس کے ذریعے مقناطیسی میدان میں موجود برقی ذرات ریڈیو لہریں پیدا کر سکتے ہیں۔ زمین اور مشتری سمیت ہمارے نظامِ شمسی میں بھی مقناطیسی میدان اور شفق سے متعلق ریڈیو اخراج دیکھے گئے ہیں۔

اس تحقیق سے سائنس دانوں نے Beta Pictoris b کے مقناطیسی میدان کی طاقت کا بھی اندازہ لگایا ہے۔ تحقیق کے مطابق سیارے پر مقناطیسی میدان کی طاقت کم از کم تقریباً 1.25 کلو گاؤس ہو سکتی ہے، جو زمین کے مقناطیسی میدان سے کئی ہزار گنا زیادہ طاقتور ہے۔ یہ کسی exoplanet کے مقناطیسی میدان کی پہلی براہِ راست پیمائش قرار دی جا رہی ہے۔

یہ سیارہ خود ایک بڑا گیس دیو ہے اور اس کی کمیت مشتری سے تقریباً 10 گنا تک بتائی جاتی ہے۔ اس لیے ان سگنلز کو کسی خلائی مخلوق یا مصنوعی پیغام کا ثبوت سمجھنا درست نہیں۔ موجودہ سائنسی تشریح انہیں قدرتی مقناطیسی اور شفقی عمل سے جوڑتی ہے۔

اس دریافت کی اصل اہمیت یہ ہے کہ ریڈیو فلکیات اب سائنس دانوں کو ہمارے نظامِ شمسی سے باہر موجود سیاروں کے مقناطیسی میدان، ماحول اور اپنے مرکزی ستارے سے تعامل کا مطالعہ کرنے کا ایک نیا راستہ فراہم کر سکتی ہے۔

یعنی 63 نوری سال دور سے آنے والی یہ ریڈیو لہریں کوئی خلائی پیغام نہیں، بلکہ ایک انتہائی طاقتور قدرتی عمل کا اشارہ ہیں—اور شاید مستقبل میں یہی تکنیک ہمیں مزید دور کی دنیاؤں کے بارے میں ایسے راز بتا سکے جنہیں روشنی کی عام دوربینوں سے جاننا انتہائی مشکل ہے۔

تحقیق کا اہم احتیاطی نکتہ: یہ نتائج 15 ستمبر 2026 کو arXiv پر پیش کیے گئے تحقیقی مقالے پر مبنی ہیں اور اس وقت تک peer review مکمل نہیں ہوا تھا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا