کراچی: میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی جانب سے گنجان آبادیوں اور تنگ گلیوں میں فوری طبی امداد کی فراہمی کے لیے سائیکل ایمبولینس سروس متعارف کرائی گئی ہے، تاہم اس اقدام پر سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
بلدیہ عظمیٰ کراچی کے مطابق سائیکل ایمبولینس کا مقصد ان علاقوں میں ابتدائی طبی امداد کو تیز بنانا ہے جہاں روایتی ایمبولینس ٹریفک یا تنگ راستوں کے باعث بروقت نہیں پہنچ پاتی۔ اس سروس کے ذریعے تربیت یافتہ عملہ مریض تک فوری پہنچ کر ابتدائی طبی امداد فراہم کرے گا، جبکہ ضرورت پڑنے پر مریض کو مکمل ایمبولینس کے ذریعے اسپتال منتقل کیا جائے گا۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے اس منصوبے پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ دنیا جدید ایئر ایمبولینس سروسز متعارف کرا رہی ہے جبکہ کراچی میں سائیکل ایمبولینس شروع کی جا رہی ہے۔ بعض پوسٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ “مریض اسپتال پہنچنے سے پہلے قبرستان پہنچ جائے گا”، تاہم یہ تبصرے صارفین کی ذاتی آرا ہیں، حقائق پر مبنی بیانات نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی شہروں، خصوصاً یورپ اور ایشیا کے گنجان شہری علاقوں میں بھی سائیکل یا موٹر سائیکل ریسپانس یونٹس استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ ابتدائی طبی امداد کم سے کم وقت میں مریض تک پہنچ سکے، جبکہ مریض کو اسپتال منتقل کرنے کے لیے بعد میں مکمل ایمبولینس استعمال کی جاتی ہے۔
اس منصوبے پر عوامی رائے منقسم ہے۔ کچھ شہری اسے محدود وسائل میں ایک مثبت قدم قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر کا مؤقف ہے کہ کراچی جیسے بڑے شہر کو جدید ایمبولینس نیٹ ورک، بہتر ٹریفک مینجمنٹ اور ہنگامی طبی سہولیات کی زیادہ ضرورت ہے۔
