ڈچ لوگ دنیا کے سب سے لمبے کیسے بنے؟ پاکستان اس سے کیا سیکھ سکتا ہے؟

0
2

انیسویں صدی کے وسط میں ڈچ لوگ یورپ کے نسبتاً پستہ قد افراد میں شمار ہوتے تھے، مگر آج نیدرلینڈز دنیا کے سب سے لمبے قد والے ممالک میں شامل ہے۔ نوجوان ڈچ مردوں کا اوسط قد تقریباً 1.83 سے 1.84 میٹر (تقریباً 6 فٹ) ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ تقریباً 150 برسوں میں ان کے اوسط قد میں تقریباً 20 سینٹی میٹر اضافہ ہوا۔

ماہرین کے مطابق اس تبدیلی کی بنیادی وجہ جینیات نہیں بلکہ بہتر خوراک، معیاری طبی سہولیات، صاف ستھرا ماحول اور بچوں کی بہتر دیکھ بھال ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ قدرتی انتخاب کا کردار نہایت معمولی تھا، جبکہ اصل فرق اچھی غذائیت اور صحت نے پیدا کیا۔

یہی سبق پاکستان کے لیے بھی اہم ہے، جہاں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 40 فیصد بچے سٹنٹنگ کا شکار ہیں، یعنی مناسب نشوونما نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنی ممکنہ لمبائی تک نہیں پہنچ پاتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قد بچپن میں بنتا ہے، جوانی میں نہیں۔ ہڈیوں کی گروتھ پلیٹس بند ہونے کے بعد، عموماً 18 سے 20 سال کی عمر کے بعد، کوئی دوا یا سپلیمنٹ قد نہیں بڑھا سکتا۔

بچوں کے بہتر قد اور صحت کے لیے چند بنیادی اصول انتہائی اہم ہیں:

  • حمل کے دوران ماں کی متوازن غذا اور باقاعدہ طبی معائنہ۔
  • پیدائش کے بعد پہلے چھ ماہ صرف ماں کا دودھ، پھر پروٹین سے بھرپور غذا جیسے انڈہ، دال، دہی، سبزیاں اور پھل۔
  • روزانہ مناسب مقدار میں دودھ یا اس کے متبادل، اور پروٹین سے بھرپور خوراک۔
  • صاف پانی، مکمل ویکسینیشن، ہاتھ دھونے کی عادت اور بیماریوں سے بروقت بچاؤ۔
  • مناسب نیند، روزانہ کچھ وقت دھوپ میں گزارنا اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر فروخت ہونے والے قد بڑھانے والے پاؤڈر، کیپسول اور قطرے سائنسی طور پر ثابت شدہ نہیں ہیں۔ ان میں سے بعض صحت کے لیے نقصان دہ بھی ہو سکتے ہیں۔

نیدرلینڈز کی مثال واضح کرتی ہے کہ کسی قوم کا قد صرف جینز سے نہیں بلکہ نسل در نسل بچوں کی بہتر غذائیت، صحت اور تعلیم میں سرمایہ کاری سے بڑھتا ہے۔

اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے بچے کا قد عمر کے مطابق کم ہے تو انتظار کرنے کے بجائے کسی مستند ماہرِ اطفال سے رجوع کریں اور بچے کے گروتھ چارٹ کا بروقت معائنہ ضرور کروائیں۔ بروقت تشخیص ہی بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا