چین میں فوج کی اعلیٰ قیادت کے خلاف جاری احتسابی کارروائی میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں حکام نے ملک کے دو انتہائی اہم فوجی جنرلز ژانگ یوشیا (Zhang Youxia) اور لیو ژنلی (Liu Zhenli) کو کمیونسٹ پارٹی اور فوج سے خارج کر دیا ہے۔ چینی حکام کے مطابق دونوں کے خلاف بدعنوانی، اختیارات کے غلط استعمال، پارٹی سے بے وفائی اور سنگین تادیبی خلاف ورزیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔
ژانگ یوشیا چین کی طاقتور Central Military Commission (CMC) کے نائب چیئرمین تھے اور فوجی کمان کے اعتبار سے صدر شی جن پنگ کے بعد انتہائی اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ دوسری جانب لیو ژنلی بھی CMC کے رکن اور اس کے Joint Staff Department کے چیف آف اسٹاف رہ چکے ہیں۔ اس لیے دونوں کے خلاف کارروائی کو چینی فوج کی اعلیٰ قیادت میں غیر معمولی اہمیت کی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
چینی سرکاری خبر رساں ادارے ژنہوا کے مطابق دونوں جنرلز پر الزام ہے کہ انہوں نے پارٹی کے سیاسی نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزیاں کیں، گروپ بندی اور دھڑے بنانے میں ملوث رہے اور پارٹی کے ساتھ وفاداری اور دیانت داری کے تقاضے پورے نہیں کیے۔ حکام نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ دونوں نے اپنے عہدوں کا غلط استعمال کیا اور بعض افراد کو ترقی دلانے کے بدلے بڑی رقوم اور تحائف حاصل کیے۔
رپورٹس کے مطابق تحقیقات میں سامنے آنے والی مبینہ مالی بے ضابطگیوں میں ’’غیر معمولی طور پر بڑی رقوم‘‘ کا ذکر کیا گیا ہے۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں کے معاملات میں سیاسی اور معاشی بدعنوانی کے ساتھ اختیارات کے غلط استعمال اور فرائض میں کوتاہی بھی شامل تھی۔ تاہم یہ الزامات اس وقت چینی حکام اور سرکاری تحقیقات کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں؛ ان کی قانونی حیثیت کا حتمی فیصلہ متعلقہ قانونی کارروائی کے بعد ہوگا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں جنرلز کے خلاف تحقیقات کا اعلان جنوری 2026 میں کیا گیا تھا۔ بعد ازاں اگست کے آخر میں انہیں ریاستی Central Military Commission سے بھی ہٹا دیا گیا، اور اب ستمبر میں کمیونسٹ پارٹی اور فوج سے باضابطہ اخراج کا اعلان سامنے آیا ہے۔
چینی حکام کے مطابق دونوں کے کیسز اب فوج کے قانونی اداروں کو مزید جائزے اور پراسیکیوشن کے لیے منتقل کر دیے گئے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ پارٹی اور فوج سے اخراج اس معاملے کا آخری مرحلہ نہیں بلکہ قانونی کارروائی بھی آگے بڑھ سکتی ہے۔
یہ کارروائی چین کی فوج میں گزشتہ کئی برس سے جاری بدعنوانی کے خلاف کریک ڈاؤن کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ صدر شی جن پنگ کے دور میں فوج اور حکومتی اداروں کے متعدد اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف تحقیقات اور تادیبی کارروائیاں کی جا چکی ہیں۔ فوج بھی اس احتسابی مہم کا ایک اہم مرکز رہی ہے۔
ژانگ یوشیا کے معاملے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ وہ چین کے فوجی نظام میں سب سے طاقتور عہدیداروں میں شمار ہوتے تھے، جبکہ لیو ژنلی بھی ملک کی اعلیٰ فوجی کمان کا حصہ رہے۔ دونوں کے خلاف موجودہ کارروائی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ چین کی فوجی قیادت میں احتساب اور نظم و ضبط کا عمل انتہائی اعلیٰ سطح تک پہنچ چکا ہے۔
