پاکستان کی سیاست بھی عجیب کھیل ہے۔ جب اقتدار کی کرسی کا سوال ہو تو کل کے حریف آج کے اتحادی بن جاتے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتے ہیں، حکومت چلاتے ہیں اور مشکل فیصلوں میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے نظر آتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی انتخابات کی ہوا چلنے لگے، وہی اتحادی ایک دوسرے کے سیاسی مخالف بننے لگتے ہیں۔
خاص طور پر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی حالیہ سیاسی کشمکش کو دیکھ کر یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ واقعی اصولوں کی جنگ ہے یا آنے والے انتخابات کی تیاری؟
گزشتہ برسوں میں دونوں جماعتیں اقتدار کے معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی رہیں۔ قومی سطح پر تعاون بھی ہوا، اہم فیصلوں میں ساتھ بھی دیا گیا اور حکومت کے مشکل فیصلوں کا بوجھ بھی عوام نے برداشت کیا۔ لیکن اب سیاسی ماحول بدل رہا ہے تو بیانات کا لہجہ بھی بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔
ایک طرف ایک دوسرے پر الزامات، دوسری طرف سیاسی فاصلے کا اظہار، اور پھر کہیں نہ کہیں اقتدار کے لیے تعاون کے دروازے کھلے رکھنے کی کوشش۔
عوام کے لیے یہ منظر نیا نہیں۔
پاکستانی ووٹر کئی دہائیوں سے یہی سیاسی تماشا دیکھ رہا ہے؛ انتخابات سے پہلے جماعتیں ایک دوسرے کو ملک کے مسائل کا ذمہ دار قرار دیتی ہیں، جلسوں میں سخت زبان استعمال ہوتی ہے، ایک دوسرے کے خلاف بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن انتخابات کے بعد مفادات کا حساب کتاب بدلتے ہی وہی جماعتیں ایک میز پر بیٹھ جاتی ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ اگر ایک دوسرے کی پالیسیاں اتنی ہی غلط تھیں تو پھر چار سال سے زیادہ عرصے تک ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنے کی وجہ کیا تھی؟
اور اگر وہ فیصلے درست تھے تو اب عوام کو یہ کیوں بتایا جا رہا ہے کہ خرابی صرف دوسرے فریق کی وجہ سے پیدا ہوئی؟
مہنگائی کا بوجھ عوام نے اٹھایا، بجلی کے بھاری بل عوام نے دیے، ٹیکسوں میں اضافہ عوام نے برداشت کیا، جبکہ سیاسی جماعتیں اب ایک دوسرے سے دوری اختیار کرکے انتخابی میدان میں خود کو عوام کا نجات دہندہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
لیکن اس مرتبہ عوام کا سوال شاید زیادہ سخت ہوگا:
آپ اتنے عرصے تک ایک ساتھ تھے، اب اچانک دشمن کیسے بن گئے؟
اور سب سے اہم سوال:
اگر انتخابات جیتنے کے بعد پھر اسی طرح اقتدار کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنا ہے تو آج کی یہ لڑائی آخر کس کے لیے ہے—عوام کے لیے یا صرف ووٹ کے لیے؟
