کیا ملک میں غیر معمولی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے سائنس، تعلیم، طب اور انجینئرنگ جیسے شعبوں کو وہ اہمیت دی جا رہی ہے جس کے وہ مستحق ہیں؟
اس سال مجموعی طور پر 372 سول ایوارڈز دیے گئے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ان میں 95 گیلنٹری، 73 پبلک سروس، 54 آرٹس، 29 ادب، 22 تعلیم، 15 طب اور صرف 8 ایوارڈز سائنس و انجینئرنگ کے شعبے میں شامل ہیں۔
اعداد کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ سائنس و انجینئرنگ، طب اور تعلیم تینوں شعبوں کو ملا کر 45 ایوارڈز ملتے ہیں، جو صرف آرٹس کے 54 ایوارڈز سے بھی کم ہیں، جبکہ پبلک سروس کے 73 ایوارڈز کے مقابلے میں یہ فرق مزید نمایاں ہو جاتا ہے۔
یہ اعداد و شمار کسی بھی ایوارڈ یافتہ کی اہلیت پر سوال نہیں اٹھاتے، لیکن قومی ترجیحات کے حوالے سے ایک جائز پالیسی سوال ضرور پیدا کرتے ہیں۔
سائنس دان، انجینئر، ڈاکٹر اور اساتذہ وہ شعبے ہیں جو کسی ملک کے مستقبل کی بنیاد تشکیل دیتے ہیں۔ تحقیق، نئی ٹیکنالوجی، طبی خدمات، معیاری تعلیم اور انجینئرنگ کے میدان میں غیر معمولی کامیابیاں براہ راست قومی ترقی پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ قومی اعزازات میں ان شعبوں کی نمائندگی کا تناسب کیا ہونا چاہیے؟
مزید اہم بات یہ ہے کہ حکومت کی 2024 سول ایوارڈ پالیسی کے مطابق صرف معمول کی ملازمت یا پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنا قومی اعزاز کے لیے کافی نہیں۔ ایوارڈ کے لیے غیر معمولی اور نمایاں کارکردگی اور عوامی فائدے کا عنصر بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
خاص طور پر پبلک سروس کے معاملات میں اگر کوئی حاضر سروس سرکاری افسر قومی اعزاز حاصل کرتا ہے تو عوام کے سامنے یہ واضح ہونا چاہیے کہ اس افسر نے اپنی معمول کی سرکاری ذمہ داریوں سے بڑھ کر کون سی غیر معمولی خدمت انجام دی جسے قومی سطح پر اعزاز کا مستحق سمجھا گیا۔
یہاں سوال کسی فرد کو نشانہ بنانے کا نہیں بلکہ نظام کو زیادہ شفاف بنانے کا ہے۔
اگر حکومت ہر ایوارڈ کے ساتھ واضح اور بامعنی Citation جاری کرے، پبلک سروس کے اعزازات میں غیر معمولی کارکردگی کی تفصیل سامنے لائے، مختلف شعبوں میں نامزدگیوں اور انتخاب کے اعداد و شمار عوام کے سامنے رکھے اور کئی برسوں کے دوران ایوارڈز کی شعبہ وار تقسیم کا جائزہ لے تو قومی اعزازات پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔
اسی طرح مفادات کے ٹکراؤ کی صورت میں Recusal اور Conflict of Interest کے اصولوں کو بھی مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
قومی اعزاز کسی شخص کی صرف تعریف نہیں ہوتا؛ یہ ریاست کی طرف سے یہ اعلان بھی ہوتا ہے کہ معاشرے میں کن خدمات کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔
اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ 2026 کے ایوارڈز میں کون حق دار تھا یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا قومی اعزازات کا نظام پاکستان کے مستقبل کے لیے علم، تحقیق، تعلیم، طب اور ٹیکنالوجی کی اہمیت کو مناسب طور پر اجاگر کر رہا ہے؟
قومی اعزازات کی قدر اسی وقت بڑھ سکتی ہے جب ان کے پیچھے موجود کارکردگی بھی عوام کے سامنے واضح، قابلِ تصدیق اور قابلِ اعتماد ہو۔
