اسلام آباد: مختلف میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان آرمی نے اپنے افسران اور جوانوں کو سرکاری اور دفتری رابطوں کے لیے واٹس ایپ کا استعمال مرحلہ وار بند کرنے اور اس کی جگہ چینی میسجنگ ایپ وی چیٹ استعمال کرنے کی ہدایت دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق فوجی حکام کا مؤقف ہے کہ واٹس ایپ پر سرکاری گفتگو نگرانی، ڈیٹا لیک اور سائبر حملوں کے زیادہ خطرات سے دوچار ہو سکتی ہے، جبکہ حساس عسکری معلومات کے تحفظ کے لیے زیادہ محفوظ مواصلاتی ذرائع اختیار کرنا ضروری ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان سائبر سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دے رہا ہے اور چین کے ساتھ دفاعی تعاون روایتی عسکری شعبوں سے بڑھ کر سائبر سیکیورٹی اور انٹیلی جنس تعاون تک پھیل رہا ہے۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان اور چین کی افواج کی جانب سے مشترکہ مواصلاتی پلیٹ فارم استعمال کرنے سے مشترکہ فوجی مشقوں، سرحدی رابطوں اور دفاعی ہم آہنگی کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
دوسری جانب بھارت نے 2020 میں قومی سلامتی کے خدشات کے پیش نظر وی چیٹ سمیت درجنوں چینی ایپس پر پابندی عائد کر دی تھی، جس کے باعث دونوں ممالک کی ڈیجیٹل سیکیورٹی حکمت عملی میں واضح فرق دیکھا جا رہا ہے۔
نوٹ: پاکستان آرمی کی جانب سے واٹس ایپ ترک کرنے اور وی چیٹ اختیار کرنے کے حوالے سے سرکاری سطح پر باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔ یہ خبر مختلف میڈیا رپورٹس پر مبنی ہے، اس لیے اس دعوے کو حتمی سرکاری پالیسی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
