ٹیلی کمیونیکیشن آلات کے لیے نئے ضوابط نافذ، درآمد، تنصیب اور استعمال سے پہلے PTA سرٹیفکیٹ لازمی

0
3

اسلام آباد، 8 ستمبر 2026 — پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں آلات کے معیار، حفاظت اور تکنیکی مطابقت کو یقینی بنانے کے لیے Telecommunication Equipment Standards Regulations, 2024 کو باقاعدہ طور پر نافذ کر دیا ہے۔ پی ٹی اے نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996 کی دفعہ 28 کے تحت وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد ان ضوابط کو گزٹ آف پاکستان کے S.R.O. 1110(I)/2026 کے ذریعے نوٹیفائی کیا ہے۔

نئے ضوابط کا اطلاق پی ٹی اے کے تمام لائسنس ہولڈرز، ٹیلی کمیونیکیشن آلات تیار کرنے والے مقامی و غیر ملکی مینوفیکچررز، درآمد کنندگان اور وینڈرز پر ہوگا۔ پی ٹی اے کے مطابق یہ ضوابط متعلقہ صنعت کے نمائندوں، لائسنس ہولڈرز، درآمد کنندگان، مینوفیکچررز اور وینڈرز سے مشاورت کے بعد تیار کیے گئے ہیں تاکہ ملک میں استعمال ہونے والے ٹیلی کمیونیکیشن آلات کے لیے ایک واضح اور یکساں معیار قائم کیا جا سکے۔

ان ضوابط کا بنیادی مقصد پاکستان میں ٹیلی کمیونیکیشن آلات کو عالمی تکنیکی معیار کے مطابق بنانا، مختلف نیٹ ورکس اور آلات کے درمیان باہمی مطابقت اور ہم آہنگی بہتر بنانا، ٹیلی کمیونیکیشن خدمات کے معیار کو بلند کرنا، مقامی سطح پر آلات کی تیاری کی حوصلہ افزائی کرنا اور ملکی معیشت و ٹیکنالوجی کے شعبے کو فروغ دینا ہے۔

نئے فریم ورک کے تحت ہر متعلقہ ٹیلی کمیونیکیشن ایکوئپمنٹ کے لیے PTA کا Certificate of Compliance یعنی سرٹیفکیٹ آف کمپلائنس حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ شرط صرف درآمد کیے جانے والے آلات تک محدود نہیں بلکہ مقامی طور پر تیار کیے جانے والے اور ملک کے نیٹ ورکس میں نصب یا عملی استعمال میں لائے جانے والے متعلقہ آلات بھی مقررہ تکنیکی معیارات کی پابندی کریں گے۔ کسی سامان کو درآمد، نصب یا آپریشنل استعمال میں لانے سے پہلے مطلوبہ کمپلائنس مکمل کرنا ہوگی۔

تکنیکی معیار کے حوالے سے نئے ضوابط میں Electromagnetic Compatibility یا EMC، Radio Frequency یا RF، صحت و تحفظ اور دیگر قابلِ اطلاق تکنیکی خصوصیات کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ٹیلی کمیونیکیشن آلات ایک دوسرے کے آپریشن میں غیر ضروری مداخلت پیدا نہ کریں، ریڈیو فریکوئنسی سے متعلق تقاضوں پر پورا اتریں اور صارفین و نیٹ ورک کے لیے مقررہ حفاظتی معیار برقرار رہے۔

رپورٹس کے مطابق نئے ضوابط میں سرٹیفکیشن کے عمل اور تکنیکی دستاویزات سے متعلق تقاضوں کو بھی منظم کیا گیا ہے، جبکہ بعض صورتوں میں تسلیم شدہ یا منظور شدہ ٹیسٹنگ رپورٹس اور دیگر متعلقہ تکنیکی معلومات کی ضرورت ہوگی۔ ریگولیٹری فریم ورک کا مقصد صنعت کے لیے کمپلائنس کے طریقہ کار کو زیادہ واضح بنانا اور مارکیٹ میں ایسے آلات کی حوصلہ شکنی کرنا ہے جو مقررہ تکنیکی معیار پر پورا نہیں اترتے۔

پی ٹی اے کے مطابق یہ اقدام صرف ایک نئے سرٹیفکیشن نظام کا نفاذ نہیں بلکہ پاکستان کے ٹیلی کمیونیکیشن ایکو سسٹم کو زیادہ مضبوط، مسابقتی اور عالمی معیار سے ہم آہنگ بنانے کی کوشش ہے۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ بہتر معیارات سے صارفین کو زیادہ قابلِ اعتماد خدمات ملنے، ٹیکنالوجی کے فروغ، مقامی مینوفیکچرنگ اور ملک میں جدید ٹیلی کمیونیکیشن آلات کی ترقی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

یوں نئے ضوابط کے بعد ٹیلی کمیونیکیشن آلات کے مینوفیکچررز، درآمد کنندگان، وینڈرز اور متعلقہ لائسنس ہولڈرز کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ وہ اپنے آلات کو مقررہ تکنیکی تقاضوں کے مطابق رکھیں اور مطلوبہ Certificate of Compliance کے بغیر ایسے آلات کو درآمد، نصب یا عملی طور پر استعمال نہ کریں۔ پی ٹی اے نے اس اقدام کو پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی، بہتر سروس معیار، باہمی مطابقت اور مسابقتی ٹیلی کمیونیکیشن ماحول کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا