لاہور میں 25 سالہ ٹک ٹاکر و بیوٹیشن ارشمہ کی پراسرار موت، کئی سوالات چھوڑ گئی

0
6

لاہور کے علاقے اسلام پورہ میں 25 سالہ ٹک ٹاکر اور بیوٹیشن ارشمہ کی پراسرار موت نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ نوجوان لڑکی اپنے فلیٹ میں اکیلی رہائش پذیر تھی اور چند روز تک اس کی کسی کو خبر نہ ہوئی، یہاں تک کہ فلیٹ سے آنے والی بدبو نے عمارت کے رہائشیوں کو متوجہ کیا۔

پولیس اور میڈیا رپورٹس کے مطابق ارشمہ اسلام پورہ کے احمد ہاسٹل کے فلیٹ نمبر 203 میں رہائش پذیر تھی۔ وہ بیوٹیشن کے طور پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ ٹک ٹاک پر ویڈیوز بھی بناتی تھی۔ اطلاعات کے مطابق وہ کچھ عرصہ قبل ہی یہ فلیٹ کرائے پر لے کر یہاں منتقل ہوئی تھی اور اکیلی رہ رہی تھی۔

رپورٹس کے مطابق فلیٹ سے بدبو آنے کے بعد عمارت کے مالک کے خاندان کی ایک خاتون نے صورتحال کا نوٹس لیا اور فلیٹ کھولا گیا، جہاں ارشمہ کی لاش ملی۔ اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی، شواہد اکٹھے کیے اور لاش کو ہسپتال منتقل کیا، جہاں پوسٹ مارٹم کیا گیا۔

ابتدائی طور پر اس واقعے نے قتل کے خدشات کو جنم دیا، تاہم پولیس کی تازہ معلومات کے مطابق جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد کی بنیاد پر ارشمہ کی موت بظاہر خودکشی معلوم ہوتی ہے۔ پولیس کے مطابق جسمانی نمونے فرانزک تجزیے کے لیے بھیجے گئے ہیں اور حتمی قانونی کارروائی فرانزک رپورٹ اور دیگر شواہد کی روشنی میں کی جائے گی۔

اس معاملے میں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ پولیس تمام ممکنہ پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔ بعض رپورٹس میں ایک مشکوک شخص کو حراست میں لیے جانے کا بھی ذکر ہے، تاہم اس شخص کے خلاف کسی جرم کو حتمی طور پر ثابت شدہ نہیں کہا جا سکتا اور تفتیش مکمل ہونے کا انتظار ضروری ہے۔

عمارت میں موجود سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ بھی تفتیش کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ ان سے یہ معلوم کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ ارشمہ کے فلیٹ پر کون آیا، کب آیا اور واقعے سے قبل یا بعد میں وہاں کیا نقل و حرکت ہوئی۔

ارشمہ کی موت نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ اکیلے رہنے والے افراد کے حوالے سے عمارتوں میں سکیورٹی، سی سی ٹی وی نگرانی اور ہنگامی رابطے کا مؤثر نظام کس قدر ضروری ہے۔ تاہم اس افسوسناک واقعے کے بارے میں حتمی نتیجہ صرف پولیس کی مکمل تفتیش، فرانزک شواہد اور پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی اخذ کیا جا سکے گا۔

فی الحال سب سے اہم بات یہ ہے کہ ارشمہ کی موت کو محض قیاس آرائیوں کی بنیاد پر قتل قرار نہ دیا جائے۔ پولیس نے ابتدائی شواہد کی بنیاد پر خودکشی کا امکان ظاہر کیا ہے، جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔ اصل حقیقت فرانزک اور تفتیشی نتائج ہی واضح کریں گے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا