فضل الرحمان کی حکومت سے مذاکرات کی اپیل، “کشمیریوں کے صبر کو سلام، تحریک اب دنیا تک پہنچ چکی ہے”

0
2

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں جاری عوامی احتجاج کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کشمیری عوام کے صبر، تحمل اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مسئلے کا حل مذاکرات اور مفاہمت کے ذریعے تلاش کیا جائے۔

اپنے ویڈیو پیغام میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت میں احتجاجی تحریک دو ماہ سے زائد عرصے سے جاری ہے۔ ان کے بقول 5 جون 2026 کو حالات کشیدہ ہونے اور حکومت و ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے بعد کمیٹی کے ایک وفد نے ان سے ملاقات کر کے تحریری طور پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا، جس پر وہ ان کے شکر گزار ہیں، اور اسی اعتماد کی بنیاد پر انہوں نے ثالثی کی ذمہ داری قبول کی۔ تاہم ان کے مطابق حکومت نے ان کی ثالثی کی کوششوں کو خاطر میں نہیں لایا اور اس حوالے سے سنجیدہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ ایک بار پھر کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ جذباتی ردِعمل یا کسی بڑے اقدام سے گریز کرے اور مذاکرات کے لیے مزید مہلت دے تاکہ مسئلے کا کوئی منصفانہ اور پائیدار حل تلاش کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام نے شدید مشکلات اور جانی نقصانات کے باوجود جس صبر اور برداشت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال صرف آزاد کشمیر تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات پاکستان کے مختلف علاقوں اور بیرونِ ملک بھی دیکھے جا رہے ہیں، جہاں کشمیری برادری احتجاج کر رہی ہے۔

جے یو آئی (ف) سربراہ نے حکومت اور ریاستی اداروں پر زور دیا کہ وہ صورتحال کی نزاکت کو سمجھیں، کشیدگی میں اضافے کے بجائے مفاہمت اور قومی یکجہتی کا راستہ اختیار کریں، تاکہ خطے میں امن، استحکام اور اعتماد کی فضا قائم ہو سکے۔

آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ کشمیر میں امن، خوشحالی اور ترقی عطا فرمائے اور اس خطے کو ہمیشہ امن و سکون کا گہوارہ بنائے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا