طلبہ کے لیے بڑی سہولت، سی ایم الیکٹرک بائیک سکیم فیز ٹو کا آغاز

0
3

پنجاب کے طلبہ کے لیے اپنی سواری کا خواب حقیقت کے مزید قریب آ گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر سی ایم الیکٹرک بائیک سکیم فیز ٹو کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے تحت صوبے کے طلبہ کو آسان شرائط پر الیکٹرک بائیکس فراہم کی جائیں گی۔ ہونہار سکالرشپ اور لیپ ٹاپ سکیم کے بعد اب طلبہ کے لیے ای بائیک سکیم کا آن لائن پورٹل بھی کھول دیا گیا ہے۔

سکیم کے آغاز کے صرف دو روز میں پنجاب بھر سے 4 لاکھ 32 ہزار طلبہ رجسٹریشن کرا چکے ہیں، جبکہ 2 لاکھ 65 ہزار درخواستوں پر کارروائی جاری ہے۔ حکام کے مطابق ایک لاکھ 8 ہزار سے زائد طلبہ کی درخواستوں کا پراسیس مکمل ہو چکا ہے اور ان کی درخواستیں جمع بھی ہو گئی ہیں۔

طلبہ 4 اکتوبر تک آن لائن درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔ اس سکیم کے لیے پنجاب کا ڈومیسائل یا شناختی کارڈ بنیادی شرط ہے، جبکہ درخواست گزار کا ہائر ایجوکیشن کمیشن سے منظور شدہ سرکاری یا نجی ڈگری کالج یا یونیورسٹی کا ریگولر طالب علم ہونا ضروری ہے۔

درخواست دینے کے لیے طالب علم کی عمر کم از کم 18 سال ہونی چاہیے اور اس کے پاس لرنر ڈرائیونگ لائسنس یا موٹرسائیکل ڈرائیونگ لائسنس بھی ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک خاندان سے صرف ایک طالب علم ہی ای بائیک حاصل کر سکے گا۔

سکیم کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ طلبہ کے لیے ڈاؤن پیمنٹ ختم کر دی گئی ہے۔ حکومت پنجاب بائیک پر عائد انٹرسٹ اور انشورنس کی رقم بھی ادا کرے گی، جبکہ ای بائیک حاصل کرنے والے طالب علم کو صرف 3 ہزار 28 روپے ماہانہ ادا کرنا ہوں گے۔

طلبہ کو بائیک کے ساتھ ہیلمٹ اور سیفٹی راڈ بھی مفت فراہم کیا جائے گا، جبکہ بائیک حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے دو روزہ تربیتی پروگرام بھی رکھا گیا ہے تاکہ وہ محفوظ طریقے سے موٹرسائیکل چلا سکیں۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ درخواستوں کا عمل مکمل ہونے کے بعد طلبہ کو چھ ہفتوں کے اندر ای بائیکس فراہم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔

یوں پنجاب حکومت کی یہ سکیم طلبہ کے لیے صرف ایک سواری کی سہولت نہیں بلکہ تعلیمی اداروں تک آسان رسائی، سفری اخراجات میں کمی اور نوجوانوں کو زیادہ خودمختاری دینے کی ایک کوشش بھی قرار دی جا رہی ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا