ستارہ انڈسٹریز کے مبینہ 12 ارب روپے کے بجلی فراڈ کیس کی تحقیقات نیب کے سپرد، غریب صارف پھر سوال اٹھانے پر مجبور

0
1

اسلام آباد: ستارہ انرجی، فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو)، سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) اور نیپرا سے متعلق تقریباً 11 ارب 96 کروڑ روپے کے مبینہ مالی نقصان کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق کیس کی تحقیقات اب وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے بجائے قومی احتساب بیورو (نیب) کرے گا، جبکہ ایف آئی اے کو درج شدہ ایف آئی آر سمیت کیس کا تمام متعلقہ ریکارڈ نیب کے حوالے کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق تحقیقات میں مبینہ طور پر بجلی کی خرید و فروخت کے معاملات، مالی بے ضابطگیوں اور فیسکو کے بعض افسران کی مبینہ ملی بھگت جیسے الزامات کا جائزہ لیا جائے گا۔ تاہم ان الزامات کی حتمی حیثیت تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگی۔

یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں عام بجلی صارف مسلسل بڑھتے ہوئے بلوں، سرچارجز، ٹیکسوں اور مہنگے ٹیرف کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ایک عام گھرانہ اگر کسی وجہ سے اپنا بجلی کا بل مقررہ وقت پر ادا نہ کرسکے تو اسے جرمانے، ڈیفالٹ اور بالآخر کنکشن منقطع ہونے کے خطرے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اربوں روپے کے مبینہ بجلی فراڈ اور بڑے مالی تنازعات کی خبریں عوام کے لیے صرف ایک قانونی کیس نہیں رہتیں بلکہ ان کے ذہن میں ایک بنیادی سوال پیدا کرتی ہیں: کیا بجلی کے نظام میں جواب دہی کا پیمانہ سب کے لیے یکساں ہے؟

عام صارف کے لیے چند ہزار روپے کا بقایا بھی سنگین مسئلہ بن جاتا ہے، لیکن جب اربوں روپے کے مبینہ واجبات، نقصانات یا بے ضابطگیوں کے معاملات سامنے آتے ہیں تو عوام یہ سوال ضرور کرتے ہیں کہ ایسے کیسز میں وصولی، ذمہ داری کے تعین اور سزا کا عمل کتنی تیزی سے آگے بڑھتا ہے۔

صارفین کا ایک دیرینہ شکوہ یہ بھی ہے کہ بڑے صنعتی یا تجارتی واجبات کے معاملات میں بعض اوقات طویل قانونی کارروائی، مذاکرات، اقساط یا ری شیڈولنگ جیسے راستے اختیار کیے جاتے ہیں، جبکہ محدود آمدن رکھنے والا گھرانہ ایک ماہ کے بل کے دباؤ میں بھی بنیادی سہولت سے محروم ہوسکتا ہے۔ ماضی میں بجلی کے بڑے واجبات اور ریکوری کے متعدد تنازعات سامنے آچکے ہیں، جنہوں نے اس سوال کو مزید نمایاں کیا ہے کہ توانائی کے شعبے میں مالی نظم و ضبط اور صارفین کے ساتھ مساوی سلوک کیسے یقینی بنایا جائے۔

یہاں اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ مبینہ طور پر 11 ارب 96 کروڑ روپے کا نقصان کیسے ہوا، بلکہ یہ بھی ہے کہ اگر قومی خزانے یا بجلی کے شعبے کو واقعی اتنا بڑا نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی، رقم واپس کیسے آئے گی اور کیا ذمہ دار عناصر کے خلاف ایسی کارروائی ہوگی جو مستقبل میں دوسروں کے لیے بھی واضح مثال بن سکے؟

کیونکہ بجلی کے شعبے کا نقصان بالآخر کسی نہ کسی شکل میں عام صارف ہی ادا کرتا ہے۔ جب اداروں کی مالی بے ضابطگیوں کا بوجھ ٹیرف، سرچارج یا اضافی وصولیوں کی صورت میں کروڑوں صارفین تک پہنچتا ہے تو ایک غریب گھرانے کا بجلی کا بل محض کاغذ کا ٹکڑا نہیں رہتا، بلکہ اس کے ماہانہ بجٹ، راشن اور بچوں کی ضروریات سے جڑا ہوا مسئلہ بن جاتا ہے۔

نیب کی جانب سے تحقیقات سنبھالے جانے کے بعد اب عوام کی نظریں اس بات پر ہیں کہ معاملہ محض فائلوں، انکوائریوں اور طویل کارروائیوں تک محدود رہتا ہے یا مبینہ نقصان کی مکمل ریکوری، ذمہ داروں کا تعین اور شفاف احتساب بھی یقینی بنایا جاتا ہے۔

سب سے اہم سوال یہی ہے کہ اگر غریب صارف کے لیے ایک ماہ کا بل نہ دینا ناقابلِ برداشت ہے، تو پھر اربوں روپے کے مبینہ بجلی نقصانات کے معاملے میں بھی قانون اور احتساب کا معیار اتنا ہی سخت اور بروقت کیوں نہ ہو؟

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا