جنوبی کوریا کے پارک میں شارک نے مچا دیا تہلکہ، 20 ہزار افراد اسے دیکھنے پہنچ گئے 🦈

0
2

جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں ایک غیر معمولی واقعے نے پورے شہر کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی، جہاں ایک تقریباً 3 سے 4 میٹر لمبی شارک سمندر سے بھٹک کر North Port Waterfront Park کے ایک آبی راستے میں جا پہنچی۔ شارک کو دیکھنے کے لیے لوگوں کی ایسی بڑی تعداد پارک پہنچ گئی کہ یہ جگہ چند ہی دنوں میں ایک غیر متوقع سیاحتی مرکز بن گئی۔

رپورٹس کے مطابق شارک پہلی مرتبہ 18 ستمبر 2026 کی صبح تقریباً 8 بج کر 57 منٹ پر پارک کے آبی راستے میں دیکھی گئی۔ بعد میں اسے دوبارہ اسی علاقے میں دیکھا گیا اور معلوم ہوا کہ وہ کھلے سمندر میں واپس جانے کے بجائے اسی نسبتاً محدود پانی میں گردش کر رہی ہے۔

صورتحال اس وقت مزید دلچسپ ہوگئی جب مقامی شہریوں کو معلوم ہوا کہ ایک زندہ شارک کسی ایکویریم میں نہیں بلکہ شہر کے ایک عوامی واٹر فرنٹ پارک کے قریب تیر رہی ہے۔ لوگ دور کھڑے ہو کر اس کی ویڈیوز بنانے لگے، تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر ہونے لگیں اور دیکھتے ہی دیکھتے شارک خود بوسان کی ایک وائرل شخصیت بن گئی۔

صرف گزشتہ ہفتے کے اختتام پر تقریباً 20 ہزار افراد شارک کو دیکھنے کے لیے North Port Waterfront Park پہنچے۔ مقامی حکام کے مطابق یہ تعداد پارک کے معمول کے ویک اینڈ رش سے تقریباً چار سے پانچ گنا زیادہ تھی۔ ہفتے کے روز تقریباً 8 ہزار 800 جبکہ اتوار کو تقریباً 10 ہزار افراد کے آنے کا اندازہ لگایا گیا۔

شارک کو محفوظ طریقے سے کھلے سمندر کی طرف واپس بھیجنے کے لیے بوسان کوسٹ گارڈ نے کشتیوں اور خصوصی عملے کی مدد سے کئی گھنٹوں تک کوشش بھی کی، تاہم ماہرین نے خبردار کیا کہ تنگ آبی راستے میں شارک کو زبردستی نکالنے کی کوشش اسے مزید مشتعل کرسکتی ہے یا اسے نقصان پہنچا سکتی ہے۔ چنانچہ حکام نے یہ کارروائی روک کر شارک کی نگرانی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

جنوبی کوریا کے National Institute of Fisheries Science نے ابتدائی طور پر شارک کی شناخت ایک مخصوص بڑی ساحلی شارک کے طور پر کی ہے، تاہم مختلف رپورٹس میں اس کی نوع کے بارے میں قدرے مختلف شناخت سامنے آئی ہے، اس لیے حتمی سائنسی شناخت کے حوالے سے احتیاط ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق گرم پانی اور خوراک کی تلاش بھی اس شارک کے اس آبی راستے تک پہنچنے کی ممکنہ وجوہات میں شامل ہوسکتی ہیں۔

اس واقعے کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ شارک صرف حقیقی دنیا میں ہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی مشہور ہوگئی۔ لوگوں نے اس کے نام رکھنا شروع کردیئے، اس کی بنیاد پر میمز اور AI سے تیار کردہ تصاویر بننے لگیں، حتیٰ کہ شارک کو بوسان کی ممکنہ علامت یا نئے سیاحتی کردار کے طور پر پیش کرنے والی تخلیقات بھی سامنے آگئیں۔

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ بھی گردش کرتا رہا کہ ایک چھوٹی شارک اس بڑی شارک کے ساتھ دیکھی گئی، لیکن اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔ اسی طرح کچھ گردش کرنے والی ویڈیوز کے بارے میں بھی حکام اور میڈیا نے احتیاط کی ضرورت ظاہر کی ہے، کیونکہ بعض تصاویر اور ویڈیوز مصنوعی ذہانت سے تیار شدہ تھیں۔

حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ شارک کو دیکھنے کے شوق میں پانی کے قریب جانے یا اس میں داخل ہونے سے گریز کریں۔ اگرچہ ماہرین کے مطابق پانی سے باہر موجود لوگوں پر حملے کا امکان بہت کم ہے، لیکن شارک کے قریب پانی میں گرنا یا داخل ہونا خطرناک ہوسکتا ہے۔ پارک انتظامیہ نے بھی اضافی عملہ تعینات کرکے لوگوں کو محفوظ فاصلے پر رکھنے کے اقدامات کیے ہیں۔

یوں ایک بھٹکی ہوئی شارک نے بوسان کے ایک عام واٹر فرنٹ پارک کو چند دنوں کے لیے غیر معمولی توجہ کا مرکز بنا دیا۔ ہزاروں افراد اسے دیکھنے پہنچے، سوشل میڈیا پر میمز بنیں اور شہر کو ایک ایسا عارضی ’’شارک ٹورازم‘‘ مل گیا جس کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا