اسلام آباد: سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ایک ویڈیو نے اسلام آباد پولیس کے ایک مبینہ مقدمے سے متعلق سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ویڈیو میں ایک شہری، جس کے دونوں ہاتھ موجود نہیں، پولیس کی جانب سے اپنے خلاف پتھراؤ کے الزام پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھاتا دکھائی دیتا ہے کہ جب وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے محروم ہے تو پتھراؤ کیسے کر سکتا ہے؟
ویڈیو میں شہری کی شناخت لطیف اللہ سدوزئی کے نام سے ظاہر کی گئی ہے، جبکہ ویڈیو پر 12 اگست 2026 کی تاریخ اور اسلام آباد کا مقام بھی درج ہے۔ ویڈیو کے مناظر میں شہری پولیس یا متعلقہ حکام کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرتا دکھائی دیتا ہے اور اپنے خلاف عائد مبینہ الزام پر سوال اٹھاتا ہے۔
معاملہ اس وقت مزید توجہ کا مرکز بنا جب شہری کے جسمانی حالت اور پولیس کی جانب سے لگائے گئے مبینہ پتھراؤ کے الزام میں واضح تضاد کی نشاندہی سامنے آئی۔ شہری کا کہنا ہے کہ اس کے خلاف کارروائی میں حقائق کی مکمل جانچ نہیں کی گئی اور اگر کسی مقدمے یا رپورٹ میں اسے پتھراؤ میں ملوث قرار دیا گیا ہے تو یہ ایک ایسا الزام ہے جس کی حقیقت جانچنے کے لیے شواہد کا سامنے آنا ضروری ہے۔
تاہم اس مخصوص معاملے میں اسلام آباد پولیس کی جانب سے لطیف اللہ سدوزئی کے خلاف مقدمے یا الزام کی تفصیلات، ایف آئی آر کی دفعات اور پولیس کا باقاعدہ مؤقف ابھی تک عوامی سطح پر واضح طور پر دستیاب نہیں ہوسکا۔ اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ پولیس ریکارڈ میں ان پر عین کس نوعیت کا الزام عائد کیا گیا اور واقعے کے وقت کیا صورتحال تھی۔
قابل ذکر ہے کہ اسلام آباد میں اس سے قبل بھی احتجاجی مظاہروں یا سرکاری کارروائیوں کے دوران پولیس پر پتھراؤ کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر جنوری 2026 میں نوری محلہ میں سروے ٹیموں پر فائرنگ اور پتھراؤ کے نتیجے میں متعدد پولیس افسران کے زخمی ہونے کی خبر سامنے آئی تھی، جس پر پولیس نے کارروائی کا اعلان کیا تھا۔
ایسے واقعات میں کسی بھی شہری کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے پہلے شواہد، گواہوں، ویڈیو فوٹیج اور دیگر متعلقہ مواد کی مکمل جانچ انتہائی اہم ہوتی ہے، کیونکہ غلط شناخت یا غیر درست الزام کسی شہری کے بنیادی حقوق کو متاثر کر سکتا ہے۔
زیرِ بحث ویڈیو نے اب یہ سوال ضرور اٹھا دیا ہے کہ اگر ایک شخص جسمانی طور پر دونوں ہاتھوں سے محروم ہو تو اس پر پتھراؤ کا الزام کس بنیاد پر عائد کیا گیا؟ اس سوال کا حتمی جواب پولیس کی جانب سے سامنے آنے والے سرکاری ریکارڈ، ایف آئی آر اور تحقیقات ہی دے سکتی ہیں۔
شہریوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، اگر کوئی مقدمہ درج ہے تو اس کی تفصیلات سامنے لائی جائیں اور تمام فریقین کا مؤقف سن کر اصل حقائق عوام کے سامنے رکھے جائیں۔
