پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں نمایاں سرمایہ کاری کی ہے۔ آج ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے تحت 270 سے زائد تسلیم شدہ جامعات اور ڈگری دینے والے ادارے ہر سال لاکھوں طلبہ کو فارغ التحصیل کر رہے ہیں۔ لیکن ایک بنیادی سوال اب بھی تشنۂ جواب ہے: آخر ان میں سے کتنے گریجویٹس واقعی اپنی تعلیم کے مطابق باعزت اور بامعنی روزگار حاصل کر پاتے ہیں؟
بدقسمتی سے پاکستان میں آج تک ایسا کوئی جامع قومی نظام موجود نہیں جو یہ بتا سکے کہ فارغ التحصیل طلبہ کتنے عرصے میں ملازمت حاصل کرتے ہیں، کن شعبوں میں کام کر رہے ہیں، ان کی ابتدائی تنخواہیں کیا ہیں یا کتنے نوجوان اپنا کاروبار شروع کرتے ہیں۔ یہی خلا ہماری اعلیٰ تعلیمی پالیسی کی سب سے بڑی کمزوری بن چکا ہے۔
جامعات اپنی تحقیقی کامیابیوں، شائع شدہ مقالوں، عالمی رینکنگ، پیٹنٹس اور جدید عمارتوں پر فخر تو کرتی ہیں، لیکن بہت کم ادارے اپنے گریجویٹس کی ملازمتوں سے متعلق مستند اور شعبہ وار اعداد و شمار عوام کے سامنے رکھتے ہیں۔ نتیجتاً طلبہ، والدین، آجر اور پالیسی ساز اہم فیصلے مکمل معلومات کے بغیر کرنے پر مجبور ہیں۔
HEC کے موجودہ معیار میں تحقیق، فیکلٹی کی قابلیت، ایکریڈیٹیشن، انفراسٹرکچر اور تحقیقی اشاعتوں کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے، جو یقیناً ضروری ہیں۔ لیکن یونیورسٹی کا مقصد صرف تحقیق کرنا نہیں بلکہ ایسے گریجویٹس تیار کرنا بھی ہے جو ملک کی معیشت اور معاشرے میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
اگر کوئی جامعہ ہزاروں ایسے طلبہ فارغ التحصیل کرے جو برسوں ملازمت سے محروم رہیں، تو صرف تحقیقی مقالوں کی بنیاد پر اسے کامیاب قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ہر سال پاکستانی خاندان اعلیٰ تعلیم پر لاکھوں بلکہ بعض نجی جامعات میں کروڑوں روپے تک خرچ کرتے ہیں۔ ایسے میں انہیں یہ جاننے کا حق ہے کہ ہر شعبے کے کتنے فیصد گریجویٹس کو ملازمت ملتی ہے، ملازمت حاصل کرنے میں اوسطاً کتنا وقت لگتا ہے، کن اداروں اور صنعتوں میں بھرتی ہوتی ہے، ابتدائی تنخواہیں کتنی ہوتی ہیں، کتنے نوجوان کاروبار شروع کرتے ہیں اور کتنے افراد بیرونِ ملک روزگار حاصل کرتے ہیں۔ یہ معلومات نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ اپنی تعلیم پر ہونے والی سرمایہ کاری کا حقیقی اندازہ نہیں لگا پاتے۔
ترقی یافتہ ممالک اس معاملے میں کافی آگے ہیں۔ برطانیہ، آسٹریلیا، امریکہ، جرمنی اور سنگاپور جیسے ممالک باقاعدگی سے گریجویٹس کے روزگار، تنخواہوں، کیریئر کی ترقی اور صنعتوں میں شمولیت سے متعلق تفصیلی رپورٹس شائع کرتے ہیں۔ یہی معلومات طلبہ کو بہتر تعلیمی فیصلے کرنے اور جامعات کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد دیتی ہیں۔
پاکستان کی بیشتر جامعات کی ویب سائٹس پر “کیریئر ڈویلپمنٹ سینٹر”، “کیریئر فیئر” اور “ایلومنائی” جیسے صفحات تو موجود ہیں، لیکن وہاں مستند اعداد و شمار نہیں ملتے کہ کتنے طلبہ ملازمت حاصل کر چکے ہیں، کہاں کام کر رہے ہیں یا ان کی آمدنی کتنی ہے۔ نتیجتاً HEC کے پاس بھی ایسا کوئی مکمل قومی ڈیٹا موجود نہیں جس کی بنیاد پر جامعات کی حقیقی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے۔
ایک اور بڑا مسئلہ جامعات اور صنعت کے درمیان کمزور روابط ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں صنعتیں نصاب کی تیاری میں حصہ لیتی ہیں، تحقیق کی سرپرستی کرتی ہیں، انٹرن شپ فراہم کرتی ہیں اور براہِ راست کیمپس سے بھرتیاں کرتی ہیں۔ پاکستان میں بھی آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، زراعت، مینوفیکچرنگ، مالیاتی اداروں، برآمدی صنعتوں اور اسٹارٹ اپس کو جامعات کے ساتھ مضبوط شراکت داری قائم کرنی ہوگی تاکہ طلبہ کی مہارتیں مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہوں۔
دوسری جانب پاکستان میں گریجویٹ بے روزگاری ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ خاص طور پر خواتین، بہترین تعلیمی کارکردگی کے باوجود، ملازمت کے مواقع سے کم مستفید ہو رہی ہیں۔ بہتر مستقبل کی تلاش میں انجینئرز، ڈاکٹرز، آئی ٹی ماہرین، محققین اور دیگر ہنر مند نوجوان بڑی تعداد میں بیرونِ ملک جا رہے ہیں۔ اگرچہ ترسیلاتِ زر معیشت کے لیے فائدہ مند ہیں، لیکن باصلاحیت افراد کی مسلسل ہجرت ملک کی ترقی اور اختراعی صلاحیت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
اس صورتحال میں ضروری ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن ایک قومی گریجویٹ آؤٹ کمز پورٹل قائم کرے، جہاں ہر جامعہ اپنے ہر شعبے کے بارے میں سالانہ بنیادوں پر مستند معلومات فراہم کرے، جن میں فارغ التحصیل طلبہ کی تعداد، 6، 12 اور 24 ماہ بعد روزگار کی صورتحال، ملازمت کا شعبہ، آجر ادارے، تنخواہوں کی حد، کاروبار شروع کرنے والوں، بیرونِ ملک ملازمت حاصل کرنے والوں اور مزید تعلیم یا پیشہ ورانہ اسناد حاصل کرنے والوں کی تفصیلات شامل ہوں۔
اگر پاکستان اپنی نوجوان آبادی کو قومی طاقت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے تو جامعات کی کامیابی کا معیار صرف تحقیقی مقالوں یا عالمی رینکنگ تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اصل کامیابی یہ ہونی چاہیے کہ کتنے فارغ التحصیل نوجوان باعزت روزگار حاصل کرتے ہیں، معیشت میں کردار ادا کرتے ہیں اور ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔
آخرکار سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ “کسی جامعہ نے کتنے تحقیقی مقالے شائع کیے؟” بلکہ یہ بھی ہونا چاہیے کہ “اس جامعہ نے کتنے نوجوانوں کی زندگی بدلی اور انہیں کامیاب مستقبل فراہم کیا؟” یہی وہ معیار ہے جو پاکستان کی اعلیٰ تعلیم کو حقیقی معنوں میں مضبوط، مؤثر اور عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ بنا سکتا ہے۔
