اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور یمنی حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات نے ایک بار پھر عالمی تجارت کے اہم بحری راستے باب المندب کی سلامتی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ گردش کر رہا ہے کہ اگر پاکستان حوثیوں کے خلاف کسی فوجی کارروائی میں شریک ہوتا ہے تو حوثی باب المندب کے ذریعے پاکستان کے لیے تجارتی راستہ بند کر سکتے ہیں، جس سے یورپ کے ساتھ درآمدات و برآمدات اور سعودی عرب سے تیل کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔
تاہم، اس دعوے کی کسی سرکاری یا آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہوئی۔ نہ پاکستان، نہ سعودی عرب اور نہ ہی حوثیوں کی جانب سے ایسا کوئی باضابطہ بیان جاری کیا گیا ہے جس سے اس دعوے کی تائید ہوتی ہو۔
ماہرین کے مطابق باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تجارتی سامان اور تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اگر اس راستے پر کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے یا جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات عالمی معیشت، شپنگ اخراجات اور تیل کی قیمتوں پر پڑ سکتے ہیں۔
پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ درآمدی تیل سے پورا کرتا ہے، جبکہ سعودی عرب اس کے اہم سپلائرز میں شامل ہے۔ ایسے میں اگر بحیرہ احمر اور باب المندب کے راستے میں طویل عرصے تک رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو عالمی سپلائی چین متاثر ہونے کے باعث پاکستان کو بھی بالواسطہ طور پر مہنگے تیل، بڑھتے درآمدی اخراجات اور تجارتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دفاعی اور معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال پر نظر رکھنا ضروری ہے، تاہم سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے غیر مصدقہ دعوؤں کے بجائے سرکاری بیانات اور مستند بین الاقوامی ذرائع پر انحصار کیا جانا چاہیے۔
فی الحال باب المندب مکمل طور پر بند نہیں ہے، تاہم خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی بحری تجارت کو درپیش خطرات بدستور برقرار ہیں اور صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔
