اسلام آباد میں قانون کے محافظ ہی قانون کی خلاف ورزی کے الزامات کی زد میں آگئے، جہاں ایک شہری کی جانب سے بنائی گئی مبینہ ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد وفاقی پولیس کی کارکردگی اور احتساب کے نظام پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ویڈیو میں مبینہ طور پر ایک پولیس اہلکار شہری سے چالان کی رقم کم کرنے کے عوض رقم طلب کرتا دکھائی دیتا ہے اور گفتگو میں مبینہ طور پر کہا جاتا ہے کہ “چار ہزار کا چالان ہے، آپ تین ہزار دے دو”۔ اگر ویڈیو اور اس میں موجود گفتگو کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ محض چند ہزار روپے کی مبینہ رشوت کا معاملہ نہیں بلکہ اس پورے نظام پر ایک بڑا سوال ہے جس کے تحت پولیس اہلکاروں کو شہریوں کی حفاظت، قانون پر عمل درآمد اور انصاف کو یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اگر کوئی اہلکار سرکاری چالان کے بجائے مبینہ طور پر موقع پر ہی رقم طے کرنے کی کوشش کرے تو عام شہری کے ذہن میں یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ قانون پر عمل کروانے والا ادارہ خود قانون کے معاملے میں کس حد تک سنجیدہ ہے۔ شہریوں سے قانون کی پابندی کا مطالبہ اپنی جگہ، لیکن جب قانون نافذ کرنے والے اہلکار پر ہی رشوت طلب کرنے کا الزام سامنے آئے تو پھر احتساب کا معیار بھی اسی سختی سے لاگو ہونا چاہیے۔
یہ صورتحال اس تاثر کو تقویت دیتی ہے کہ بعض اہلکار مبینہ طور پر وردی اور اختیار کو شہریوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اگر واقعی چالان چار ہزار روپے کا تھا تو پھر شہری سے مبینہ طور پر تین ہزار روپے میں معاملہ ختم کرنے کی پیشکش کس قانونی اختیار کے تحت کی گئی؟ اور اگر سرکاری کارروائی کے بجائے رقم پر گفت و شنید کی گئی تو وہ رقم کہاں جانی تھی؟ یہی وہ سوالات ہیں جن کا جواب اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ حکام کو دینا چاہیے۔
پولیس ایک عام محکمہ نہیں بلکہ ریاستی اختیار کی علامت ہے۔ ایک عام شہری جب پولیس اہلکار کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو وہ یہ توقع کرتا ہے کہ اس کے ساتھ قانون کے مطابق برتاؤ ہوگا، نہ کہ اسے مبینہ طور پر رقم کے ذریعے معاملہ طے کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔ چند ہزار روپے کے لیے قانون کی مبینہ خلاف ورزی نہ صرف ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ ایماندار پولیس اہلکاروں کی محنت کو بھی مشکوک بنا دیتی ہے۔
اب ضرورت صرف اس ویڈیو کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے تک محدود رہنے کی نہیں، بلکہ شفاف انکوائری، ویڈیو کی فرانزک جانچ اور ذمہ دار اہلکار کے خلاف قانون و محکمانہ قواعد کے مطابق کارروائی کی ہے۔ اگر الزام غلط ثابت ہوتا ہے تو متعلقہ اہلکار کو بھی اپنا مؤقف پیش کرنے اور اپنی صفائی کا مکمل حق ملنا چاہیے، لیکن اگر رشوت طلبی ثابت ہو جاتی ہے تو پھر ایسی کارروائی ہونی چاہیے جو دوسروں کے لیے بھی واضح پیغام بنے کہ وردی قانون سے بالاتر نہیں۔
اسلام آباد کے شہریوں کا بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا چالان قانون کے مطابق ہوگا یا سڑک کنارے رقم طے کرکے؟ اس سوال کا جواب صرف ایک اہلکار نہیں بلکہ پورے پولیس نظام کے احتساب اور شفافیت سے جڑا ہوا ہے۔
نوٹ: اگر آپ کے پاس وہ اصل ویڈیو ہے تو اسے یہاں اپ لوڈ کریں؛ میں ویڈیو میں موجود گفتگو اور واقعات کو دیکھ کر خبر کو مزید مضبوط، درست اور قانونی طور پر محتاط انداز میں تیار کر سکتا ہوں۔Upload a video
