چین میں ایک کسان کو مصنوعی ذہانت پر حد سے زیادہ اعتماد کرنا بھاری پڑ گیا، جہاں AI اسسٹنٹ کے مشورے پر کیڑے مار اور جڑی بوٹیوں کے خلاف دوا استعمال کرنے کے بعد اس کی تقریباً 25 ایکڑ فصل تباہ ہوگئی۔
مقامی رپورٹس کے مطابق صوبہ آنہوئی کے شہر چوزہاؤ سے تعلق رکھنے والا 67 سالہ کسان گزشتہ ایک سال سے زرعی معاملات میں مصنوعی ذہانت سے مشورے لے رہا تھا۔ وہ فصلوں کی دیکھ بھال، کھاد کے استعمال اور دیگر زرعی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کے لیے AI پر انحصار کرتا تھا۔
ابتدائی طور پر اسے AI کے مشوروں سے فائدہ بھی ہوا، جس کے باعث اس کا اعتماد مزید بڑھتا گیا۔ یہی اعتماد بعد میں اس وقت مسئلہ بن گیا جب اس نے ایک اہم زرعی فیصلے میں ماہر سے تصدیق کیے بغیر AI کی تجویز پر عمل کرلیا۔
کسان نے تل کی فصل میں جڑی بوٹیوں اور کیڑوں سے نجات کے لیے AI سے مناسب کیمیائی علاج کے بارے میں مشورہ لیا۔ AI کی تجویز کردہ دوا استعمال کرنے کے بعد صورتحال قابو میں آنے کے بجائے مزید خراب ہوگئی اور کھیت میں موجود بڑی تعداد میں نومولود پودے تباہ ہوگئے۔
زرعی ماہرین کے مطابق نقصان کی ایک بڑی وجہ فلوفیناسیٹ نامی جڑی بوٹی مار دوا بتائی گئی ہے، جس کا غلط استعمال تل کی فصل کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
یوں ایک ایسا کسان جو ایک سال تک مصنوعی ذہانت سے مدد لے کر اپنے زرعی کام بہتر انداز میں چلا رہا تھا، ایک غلط مشورے کے نتیجے میں بھاری مالی نقصان سے دوچار ہوگیا۔
یہ واقعہ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ایک اہم سوال بھی سامنے لاتا ہے:
کیا AI کے مشورے کو ہر شعبے میں ماہر انسان کا متبادل سمجھنا محفوظ ہے؟
مصنوعی ذہانت معلومات فراہم کرسکتی ہے، لیکن خاص طور پر زراعت، طب، قانون یا دیگر حساس شعبوں میں اس کے مشورے پر عمل کرنے سے پہلے مستند ماہر سے تصدیق ضروری ہے۔
کیونکہ کبھی ایک غلط جواب صرف چند سیکنڈ ضائع نہیں کرتا۔۔۔ کبھی وہ ایک سال کی محنت اور پوری فصل بھی تباہ کرسکتا ہے۔
