پاکستان میں بچوں کے خلاف جرائم میں تشویشناک اضافہ، روزانہ 9 سے زائد بچے زیادتی کا شکار، ریاست کہاں ہے؟

0
1

پاکستان میں بچوں کے تحفظ کے دعوے، قوانین اور سرکاری پالیسیوں کے باوجود بچوں کے خلاف جرائم کا ایک ایسا خوفناک چہرہ سامنے آیا ہے جو پورے معاشرے اور بالخصوص حکومت کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ساحل کی تازہ رپورٹ ’’Cruel Numbers 2025‘‘ کے مطابق 2025 کے دوران ملک بھر میں بچوں سے زیادتی اور دیگر متعلقہ جرائم کے 3 ہزار 630 کیسز رپورٹ ہوئے، یعنی اوسطاً روزانہ 9 سے زائد بچے ایسے جرائم کا نشانہ بنے۔ رپورٹ کے مطابق یہ تعداد 2024 کے مقابلے میں تقریباً 8 فیصد زیادہ ہے۔

یہ اعداد و شمار محض چند ہزار مقدمات کی گنتی نہیں بلکہ ان خاندانوں کی کہانی ہیں جن کے بچے اغوا ہوئے، جنسی زیادتی کا شکار ہوئے، لاپتہ ہوئے، اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنے یا بعض صورتوں میں زیادتی کے بعد قتل کر دیے گئے۔ سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ یہ اعداد و شمار بھی مکمل تصویر نہیں دکھاتے، کیونکہ ساحل کی رپورٹ اخبارات میں شائع ہونے والے واقعات کی بنیاد پر تیار کی جاتی ہے اور پاکستان میں بدنامی، خوف، سماجی دباؤ اور قانونی کارروائی کے پیچیدہ مراحل کے باعث بچوں کے خلاف بہت سے جرائم رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ ساحل اپنے ’’Cruel Numbers‘‘ سلسلے میں بچوں سے جنسی زیادتی، اغوا، لاپتہ بچوں اور کم عمری کی شادیوں سمیت مختلف جرائم کا ڈیٹا مرتب کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2025 میں اغوا کے 1 ہزار 107 کیسز سامنے آئے، جبکہ لواطت کے 596، ریپ کے 522، لاپتہ بچوں کے 365، ریپ کی کوشش کے 195 اور لواطت کی کوشش کے 141 کیسز رپورٹ ہوئے۔ اس کے علاوہ 130 اجتماعی لواطت، 108 اجتماعی ریپ، جنسی زیادتی کے بعد بچوں کے قتل کے 58 اور کم عمری کی شادیوں کے 53 کیسز بھی ریکارڈ کیے گئے۔

ان اعداد و شمار میں سب سے زیادہ لرزا دینے والی حقیقت وہ 58 واقعات ہیں جن میں بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں بچوں کے تحفظ کے لیے قوانین، ادارے، پولیس، چائلڈ پروٹیکشن یونٹس اور مختلف سرکاری نظام موجود ہیں، وہاں ہر سال اتنے بچوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ریاست کیوں ناکام دکھائی دیتی ہے؟

حکومت پاکستان کے لیے یہ سوال مزید سنگین اس لیے بھی ہے کہ بچوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی کا سلسلہ نیا نہیں۔ ملک میں زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری ایکٹ سمیت مختلف قوانین موجود ہیں، جبکہ صوبائی سطح پر بھی بچوں کے تحفظ کے لیے ادارے قائم کیے گئے ہیں۔ پنجاب میں جون 2025 میں چائلڈ پروٹیکشن پالیسی کی منظوری بھی دی گئی تھی، جس کا مقصد بچوں کے تحفظ کی خدمات اور نظام کو بہتر بنانا ہے۔

لیکن اصل سوال قانون بنانے کا نہیں، قانون پر عمل درآمد کا ہے۔ اگر قانون موجود ہے مگر بچے پھر بھی روزانہ زیادتی، اغوا اور تشدد کا شکار ہو رہے ہیں تو ریاست کو اپنی کارکردگی کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا۔ محض قوانین، اجلاسوں، پالیسیوں اور بیانات سے بچوں کو محفوظ نہیں بنایا جا سکتا۔ والدین کو یہ یقین چاہیے کہ اگر ان کے بچے کے ساتھ جرم ہوا تو پولیس فوری کارروائی کرے گی، تفتیش شفاف ہوگی، ملزم کو سیاسی یا سماجی اثر و رسوخ حاصل نہیں ہوگا اور عدالت سے بروقت انصاف ملے گا۔

رپورٹ کا ایک اور انتہائی اہم پہلو متاثرہ بچوں کی عمر ہے۔ دستیاب رپورٹنگ کے مطابق 11 سے 15 سال کی عمر کے بچے سب سے زیادہ خطرے میں رہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ عمر جس میں بچے تعلیم، کھیل، دوستی اور اپنے مستقبل کے خوابوں میں مصروف ہونے چاہئیں، اسی عمر میں ان کی ایک بڑی تعداد جرائم پیشہ افراد کے رحم و کرم پر ہے۔

مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ بچوں کے لیے خطرہ ہمیشہ کسی اجنبی سے نہیں ہوتا۔ ساحل کے اعداد و شمار میں جاننے والے افراد بارہا ملزمان کی نمایاں کیٹیگری کے طور پر سامنے آتے رہے ہیں۔ 2024 کی رپورٹنگ میں بھی جاننے والوں کو بچوں کے جنسی استحصال میں سب سے زیادہ ملوث گروہ قرار دیا گیا تھا۔

یہ صورتحال والدین کے لیے ایک خوفناک حقیقت سامنے لاتی ہے: بچے صرف گلی، بازار یا سڑک پر ہی غیر محفوظ نہیں، بعض اوقات خطرہ ان کے اردگرد موجود جان پہچان کے لوگوں سے بھی ہو سکتا ہے۔ اسی لیے بچوں کے تحفظ کے لیے صرف پولیسنگ کافی نہیں؛ اسکولوں، مدارس، کھیلوں کے مراکز، ہاسٹلز، ٹرانسپورٹ، گھروں اور دیگر مقامات پر مؤثر حفاظتی نظام، لازمی رپورٹنگ اور بچوں کو آگاہی فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔

رپورٹ میں صوبائی تقسیم بھی حکومت کے لیے ایک بڑا سوال ہے۔ 2025 کے رپورٹ شدہ کیسز میں پنجاب کا حصہ تقریباً 73 فیصد رہا، سندھ میں تقریباً 21 فیصد کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ خیبر پختونخوا میں تقریباً 4 فیصد کیسز سامنے آئے۔ باقی علاقوں کا حصہ نسبتاً کم رہا۔ تاہم کم تعداد کو یہ سمجھنا خطرناک ہوگا کہ وہاں مسئلہ موجود نہیں؛ کم رپورٹنگ بھی ایک ممکنہ وجہ ہو سکتی ہے۔

یہاں حکومت کے سامنے ایک بنیادی سوال کھڑا ہوتا ہے: کیا پاکستان میں بچوں کے خلاف جرائم کی اصل تعداد حکومت کو معلوم بھی ہے؟ اگر ریاست کے پاس پولیس، عدالتوں، چائلڈ پروٹیکشن اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کا مربوط قومی ڈیٹا بیس نہیں تو پھر بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام کی مؤثر حکمت عملی کیسے بنائی جا سکتی ہے؟

ساحل کی رپورٹ کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ یہ اعداد و شمار بنیادی طور پر میڈیا مانیٹرنگ سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ تنظیم کے مطابق اس کے ڈیٹا کے لیے 81 قومی اور علاقائی اخبارات کی نگرانی کی جاتی ہے۔ اس لیے رپورٹ شدہ 3 ہزار 630 کیسز کو ملک میں ہونے والے تمام واقعات کا مکمل شمار سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

یعنی اصل صورتحال ممکنہ طور پر اس سے کہیں زیادہ سنگین ہو سکتی ہے۔

یہ وہ مقام ہے جہاں حکومت پاکستان کو صرف پریس ریلیز جاری کرنے کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام کے لیے قومی سطح پر ایک مرکزی اور حقیقی وقت میں اپ ڈیٹ ہونے والا چائلڈ پروٹیکشن ڈیٹا سسٹم ہونا چاہیے، پولیس میں بچوں سے متعلق جرائم کی تفتیش کے لیے تربیت یافتہ خصوصی یونٹس ہونے چاہئیں، متاثرہ بچوں کے لیے فوری قانونی، نفسیاتی اور طبی مدد یقینی بنائی جانی چاہیے اور ایسے مقدمات کے فیصلوں کے لیے مؤثر فاسٹ ٹریک نظام کو عملی شکل دینی چاہیے۔

اس کے ساتھ ساتھ اسکولوں اور مدارس میں بچوں کو یہ سکھانا بھی ضروری ہے کہ کوئی شخص انہیں چھونے، ڈرانے، بلیک میل کرنے یا کسی راز کو چھپانے پر مجبور کرے تو وہ فوراً کسی قابل اعتماد بڑے کو اطلاع دیں۔ والدین اور اساتذہ کی تربیت بھی اتنی ہی ضروری ہے، کیونکہ اکثر بچے خوف یا شرمندگی کے باعث خاموش رہتے ہیں۔

پاکستان میں بچوں کے تحفظ کا مسئلہ اب محض ’’سماجی مسئلہ‘‘ نہیں رہا؛ یہ ریاستی ذمہ داری اور قومی سلامتیِ انسانی کا مسئلہ ہے۔ جس ریاست میں بچے محفوظ نہیں، وہاں ترقی، معیشت، انفراسٹرکچر اور بڑے بڑے منصوبوں کے دعوے اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔ ایک بچے کا اغوا ہونا، زیادتی کا شکار ہونا یا زیادتی کے بعد قتل ہو جانا صرف ایک خاندان کا المیہ نہیں بلکہ ریاستی نظام کے لیے ایک ناکامی کا ثبوت ہے۔

اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ 3 ہزار 630 کا عدد ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اگر ایک سال میں رپورٹ ہونے والے کیسز ہی اتنے ہیں تو غیر رپورٹ شدہ واقعات کتنے ہوں گے؟ جب روزانہ 9 سے زائد بچے رپورٹ شدہ جرائم کا شکار ہو رہے ہوں تو اسے معمول کی خبر سمجھنا خطرناک ہے۔

حکومت پاکستان کو اب بیانات اور وقتی ردعمل سے آگے بڑھ کر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ بچوں کا تحفظ واقعی ریاست کی ترجیح ہے۔ ورنہ ساحل کی ہر نئی رپورٹ صرف نئے اعداد و شمار نہیں لائے گی بلکہ یہ سوال مزید شدت سے اٹھائے گی کہ پاکستان میں بچوں کو آخر کس سے تحفظ ملے گا، اگر ریاستی نظام ہی انہیں بروقت تحفظ فراہم نہ کر سکے؟

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا