مصر، اردن، شام، ایران اور عراق کے ساتھ اسرائیل کی مختلف جنگوں میں فضائی لڑائیاں ہوتی رہی ہیں، تاہم پاکستانی فضائیہ کے پائلٹس کی عرب ممالک کی جانب سے ان معرکوں میں شرکت ایک منفرد باب سمجھی جاتی ہے۔ دستیاب پاکستانی اور دیگر ذرائع کے مطابق 1967 کی چھ روزہ جنگ میں پاکستانی پائلٹ فلائٹ لیفٹیننٹ سیف الاعظم نے اردن اور عراق کی جانب سے پرواز کرتے ہوئے اسرائیلی فضائیہ کے تین طیارے مار گرائے۔ پاکستان ایئر فورس میوزیم بھی ان کی جانب سے ایک اسرائیلی سپر میسٹیئر، ایک میراج اور ایک وٹور بمبار گرائے جانے کا ذکر کرتا ہے۔
5 جون 1967 کو سیف الاعظم نے اردن کے مفرَق ایئر بیس پر اسرائیلی حملے کے دوران ہاکر ہنٹر اڑاتے ہوئے ایک اسرائیلی سپر میسٹیئر کو مار گرایا اور دوسرے کو نقصان پہنچایا۔ دو روز بعد وہ عراق کے ایچ تھری اڈے پر پہنچے، جہاں عراقی ہنٹر اڑاتے ہوئے اسرائیلی حملہ آور طیاروں کا سامنا کیا اور ایک میراج تھری اور ایک وٹور بمبار گرانے کا کریڈٹ حاصل کیا۔
اس کے بعد پاکستانی پائلٹس کا ایک اور قابل ذکر واقعہ شام میں پیش آیا۔ 26 اپریل 1974 کو فلائٹ لیفٹیننٹ عبدالستار علوی نے شامی فضائیہ کا MiG-21 اڑاتے ہوئے گولان کے محاذ پر ایک اسرائیلی میراج تھری کو مار گرانے کا دعویٰ کیا۔ پاکستان ایئر فورس میوزیم بھی اس واقعے کو اپنی تاریخ میں شامل کرتا ہے، تاہم بعض غیر پاکستانی تاریخی حوالوں میں اس واقعے کی آزادانہ تصدیق پر سوالات بھی موجود ہیں۔
یہاں ایک اہم تصحیح ضروری ہے: سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ عام ہے کہ گزشتہ 50 برس میں اسرائیلی فضائیہ کے صرف پانچ لڑاکا طیارے فضائی مقابلے میں تباہ ہوئے اور پانچوں پاکستانی پائلٹس نے گرائے، لیکن اس دعوے کو قطعی تاریخی حقیقت کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔ 1973 کی یومِ کپور جنگ سمیت اسرائیلی فضائیہ کو عرب فضائی افواج کے ہاتھوں متعدد نقصانات اٹھانا پڑے۔ اسی طرح پاکستانی پائلٹ ایم۔ حاطف کی جانب سے 1973 میں ایک اسرائیلی F-4 فینٹم گرانے کا دعویٰ بھی ملتا ہے، لیکن اس کی آزادانہ اور مضبوط دستاویزی تصدیق محدود ہے۔
اس لیے زیادہ محتاط تاریخی خلاصہ یہ ہے کہ پاکستانی پائلٹس نے عرب ممالک کی جانب سے لڑتے ہوئے اسرائیلی طیارے مار گرانے کے کم از کم چار نمایاں واقعات کا کریڈٹ حاصل کیا، جبکہ پانچویں طیارے سے متعلق دعویٰ متنازع یا کم دستاویزی ہے۔ یہ واقعات پاکستان اور عرب ممالک کے درمیان اُس دور کے فوجی تعاون اور پاکستانی فائٹر پائلٹس کی تربیت و جنگی صلاحیت کا ایک غیر معمولی باب ضرور ہیں۔
